اقوامِ متحدہ کے اہلکار کا نیویارک سٹی ہیڈکوارٹر پر سکیورٹی کی طرف سے حملے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوامِ متحدہ کے ایک سینئر اہلکار جو اسرائیل-حماس تنازعہ کا شکار بچوں کی حمایت میں بھوک ہڑتال پر ہیں، نے الزام لگایا ہے کہ ان پر نیویارک ہیڈ کوارٹر میں تنظیم کی سکیورٹی نے حملہ کیا جس کی عالمی ادارے نے تردید کی ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ایک ترجمان نے کہا کہ اہلکار کو وہاں مظاہرہ کرنے کی اجازت نہ ملی جس کے بعد زبردستی انہیں احاطے سے ہٹانے کی کوشش میں مزاحمت کے دوران وہ گر گئے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی ہمدردی کے اعلیٰ افسر 54 سالہ برونو ڈونٹ جو امریکی-ماریشیائی شہریت کے حامل ہیں، یکم مارچ سے اسرائیل-حماس تنازعہ کا شکار بچوں کے لیے بھوک ہڑتال پر ہیں۔

انہوں نے منگل کو اپنی بھوک ہڑتال یہ کہتے ہوئے روک دی کہ اقوامِ متحدہ میں اس واقعے کے بعد انہیں درد تھا اور قے آ رہی تھی۔

جنیوا میں باڈی کے یورپی دفتر میں کام کرنے اور اس سے قبل جمہوریہ کانگو میں تخفیفِ اسلحہ پر ملازمت کرنے والے ڈونٹ نے کہا کہ پیر کو تادیر ایک ساتھی سے ملنے کے لیے عمارت میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران ان کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔

انہوں نے رائٹرز کو بتایا، "انہوں نے مجھے گھسیٹ کر باہر نکالا۔ باہر سکیورٹی والے نے مجھے زمین پر گرا دیا اور میرا سر فٹ پاتھ سے ٹکرا گیا۔" انہوں نے کہا کہ اس واقعے سے سر سے خون بہنے لگا اور رائٹرز کو اپنے سر کے عقبی حصے میں لگنے والی چوٹ دکھائی جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے انہیں فوراً ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال لے جایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ اس واقعہ کی اطلاع اقوامِ متحدہ کی انتظامیہ کو دے دی ہے اور پولیس رپورٹ درج کرنے کا ارادہ کیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے ترجمان فرحان حق نے کہا کہ سکیورٹی کی جانب سے ڈونٹ کو بار بار وہاں سے جانے کے لیے کہا گیا اور عمارت کے بند ہونے تک انکار کر دیا۔

حق نے کہا، "اس موقع پر انہیں ڈیوٹی پر موجود افسران باہر لے گئے جس کے دوران زبردستی انہیں احاطے سے ہٹانے کی کوششوں کی۔ انہوں نے مزاحمت کی اور زبردستی داخلی مقام سے واپس جانے کی کوشش کی۔ اس موقع پر افسران کے مطابق وہ مرکزی دروازے کے باہر راستے پر پیچھے کی طرف گر گئے۔"

ڈونٹ اسرائیل کی فوجی مہم کے دوران غزہ میں جاں بحق ہونے والے ہزاروں بچوں کی طرف دنیا کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے بچوں سمیت غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ڈونٹ کہتے ہیں کہ اقوامِ متحدہ ہیڈکوارٹرکے باہر اور سوشل میڈیا پر ان کی مہم ذاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں