امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن کا العربیہ سے تفصیلی انٹرویو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ’العربیہ‘ چینل کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں غزہ کی پٹی کی صورتحال، رفح میں فوجی کارروائی کے مضمرات، اور حماس اور اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے علاوہ انسانی امداد اور بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کے بارے میں تفصیلی بات کی۔

جدہ کے دورے پر آنے والے امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ واشنگٹن حماس سے نمٹنے کے متبادل آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہاکہ حماس کی وجہ سے فلسطینیوں نے اپنی جانوں کی بڑی قربانی دی اور مصائب کا سامنا کیا ہے۔

متبادل آپشنز

امریکی وزیر نے اسرائیل اور حماس کے درمیان قیدیوں تبادلے کے معاہدے تک پہنچنے کے بارے میں امید کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے تک پہنچنے کے قریب ہیں۔ وہ مشرق وسطیٰ کے اپنے موجودہ دورے کے دوران جنگ کے بعد غزہ میں نظم و نسق پر بات کریں گے۔

غزہ کی پٹی کے لیے انسانی امداد کے بارے میں سوال پر بلنکن نے کہا کہ سمندری راہداری غزہ کی پٹی میں امدادی سامان لانے کا متبادل نہیں ہے۔

رفح آپریشن کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن رفح میں بڑے پیمانے پر اسرائیلی زمینی آپریشن کی حمایت نہیں کرتا۔

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ ہو تاکہ غزہ کی پٹی کے مستقبل کے لیے کام کیاجائے"۔

مشرق وسطیٰ کا دورہ

قابل ذکر ہے کہ بلنکن اپنے اتحادی اسرائیل کے ساتھ واشنگٹن کے تعلقات میں بڑھتے ہوئے تناؤ کے درمیان غزہ جنگ میں جنگ بندی تک پہنچنے کی کوششوں پر بات کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ کے دورے کے آغاز پر آج بدھ کو سعودی عرب پہنچے تھے۔ .

بلنکن مملکت کا دورہ مکمل کرنے کے بعد کل قاہرہ کا دورہ کرنے والے ہیں۔ جب کہ وہ کل جمعہ کو اسرائیل کا دورہ کریں گے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے بلنکن کے سعودی عرب پہنچنے تک اسرائیل کے طے شدہ دورے کا اعلان نہیں کیا تھا۔ وزارت خارجہ نے فوری طور پر ٹور پروگرام سے اسرائیل کے دورے کو خفیہ رکھنے کی وجوہات کی وضاحت نہیں کی۔

سمندری راہداری اور رفح آپریشن

غزہ کے لیے امداد کے معاملے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی تک سمندری پل پر کام دو ہفتوں کے بعد شروع ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سمندری گذرگاہ غزہ کی پٹی میں امدادی سامان لانے کا متبادل نہیں ہے۔

رفح آپریشن کے حوالے سے انہوں نے واضح کیا کہ واشنگٹن رفح میں بڑے پیمانے پر اسرائیلی زمینی آپریشن کی حمایت نہیں کرتا۔

امریکی وزیر نے یہ بھی کہا کہ "ہم چاہتے ہیں کہ جنگ کا خاتمہ ہو تاکہ غزہ کی پٹی کے مستقبل کے لیے خود کو وقف کر دیا جائے"۔

حوثیوں کے حملے

بلنکن نے کہا کہ حوثیوں نے یمن میں ان کھیپوں کو نشانہ بنایا جو یمنی عوام کے لیے سامان لے جا رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ صرف ایک امریکی نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔

انہوں نے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن بحیرہ احمر پر حملے روکنے کے لیے ایران پر حوثیوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں