خامنہ ای:'مزاحمتی' گروپ آزاد ہیں، ایران کو ان کے افعال کا ذمہ دار قرار دینا غلط ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے بدھ کے روز کہا، امریکہ کا شرقِ اوسط میں ہر امریکہ مخالف کارروائی کا الزام ایران پر لگانا غلط ہے اور یہ کہ خطے میں تہران کے حمایت یافتہ مزاحمت کار خود مختاری سے کام کرتے ہیں۔

تہران کے حمایت یافتہ علاقائی مزاحمت کار گروپوں کے نیٹ ورک میں فلسطینی گروپ حماس، لبنان کی حزب اللہ، عراق اور شام میں مختلف ملیشیا اور یمن میں حوثی شامل ہیں جن کا حوالہ دیتے ہوئے خامنہ ای نے کہا، "یقیناً ہم مزاحمت کا دفاع کرتے ہیں۔ ہم مزاحمتی گروپوں کی حتی الامکان حمایت کرتے ہیں۔"

ایران کے اعلیٰ ترین رہنما نے ایرانی نوروز کے موقع پر براہِ راست نشریات کے دوران مزید کہا، "لیکن یہ گروپ آزادانہ طور پر فیصلہ اور عمل کرتے ہیں۔"

انہوں نے کہا، "جب بھی یمن، عراق، شام، لبنان یا خطے کے دیگر علاقوں میں بہادر مزاحمتی قوتیں کوئی کارروائی کرتی ہیں تو امریکی اپنے حساب سے اس کا ذمہ دار ایران کو قرار دیتے ہیں۔ یہ غلط حساب کتاب یقیناً امریکہ کو گھٹنوں پر لے آئے گا۔"

خامنہ ای نے کہا، ایران کے حمایت یافتہ گروپوں کے دباؤ کی وجہ سے امریکی فوجیوں کے پاس خطے سے انخلاء کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ غزہ میں جاری جنگ نے "مزاحمتی محاذ" کی اہمیت کو نمایاں کیا ہے اور انہوں نے اس محاذ کی مسلسل مضبوطی کی وکالت کی۔

خامنہ ای نے اسرائیل کے خلاف لڑنے والے کسی بھی فریق کی ایران کی طرف سے حمایت کا وعدہ بھی کیا۔

سات اکتوبر کو اسرائیل پر فلسطینی گروپ کے حملے کے بعد اسرائیل-حماس جنگ شروع ہو گئی جس کے بعد سے شرقِ اوسط میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔

اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے والے ایران نے سات اکتوبر کے حملے کی تعریف کی جبکہ اس کی منصوبہ بندی یا اس پر عمل درآمد میں کسی بھی طرح سے ملوث ہونے سے انکار کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں