فلسطین اسرائیل تنازع

سابق امریکی حکام کا بائیڈن پرزور، فلسطینیوں کے حقوق کے لیے اسرائیل پردباؤ ڈالاجائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

70 کے قریب سابق امریکی حکام، سفارت کاروں اور فوجی افسران نے بدھ کے روز صدر جو بائیڈن پر زور دیا کہ اگر اسرائیل فلسطینیوں کو شہری حقوق اور بنیادی ضروریات دینے سے انکار کرتا ہے اور مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد کاری کی سرگرمیوں کو بڑھاتا ہے تو اسے سنگین نتائج سے خبردار کیا جائے۔

گروپ نے بائیڈن کو ایک کھلے خط میں کہا، "امریکہ کو اس طرح کے طرزِ عمل کی مخالفت کے لیے ٹھوس کارروائی کرنے کے لیے تیار ہونا چاہیے جس میں امریکی قانون اور پالیسی کے مطابق (اسرائیل کو) امریکی امداد کی فراہمی پر پابندی بھی شامل ہے۔"

دستخط کنندگان میں ایک درجن سے زیادہ سابق سفراء کے ساتھ ساتھ محکمۂ خارجہ کے دیگر ریٹائرڈ اہلکار اور پینٹاگون، انٹیلی جنس اور وائٹ ہاؤس کے سابق اہلکار شامل تھے جن میں سابق صدر بل کلنٹن کے قومی سلامتی کے مشیر انتھونی لیک بھی تھے۔

اس خط میں غزہ کی پٹی کی حکمران حماس کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں پر امریکہ میں بڑھتی ہوئی مایوسی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اس کارروائی کی وجہ سات اکتوبر کو جنوبی اسرائیل میں حماس کی ہنگامہ آرائی تھی جس میں انہوں نے تقریباً 1,200 افراد کو ہلاک کر دیا اور 253 کو یرغمال بنا لیا تھا۔

اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ 2.3 ملین کی آبادی کے پاس خوراک، پانی اور رہائش بہت کم ہے اور بعض حصوں میں خوراک کی قلت قحط کی سطح سے زیادہ ہے۔

اپنے خط میں گروپ نے کہا کہ حماس کے خلاف اسرائیلی فوجی آپریشن "ضروری اور باجواز تھا۔"

گروپ نے کہا، لیکن اسرائیل کی کارروائیوں میں بین الاقوامی قانون کی "بار بار خلاف ورزیاں کی گئی ہیں"۔ ان قوانین میں اندھا دھند قتل اور ہتھیاروں کے استعمال پر پابندی ہے جو مزاحمت کاروں اور عام شہریوں کے درمیان امتیاز کی اجازت نہیں دیتے۔

گروپ نے کہا، "غزہ کے دسیوں ہزار شہری ہلاک ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اس نوعیت اور شدت کے شہری قتل کو جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔"

اسرائیل اس بات کی تردید کرتا ہے کہ اس کی کارروائیاں بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔

گروپ نے کہا کہ وہ بائیڈن کے کم از کم چھ ہفتوں کی فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی فراہمی کے ایک قابلِ اعتماد نظام کے قیام اور یرغمالیوں کی رہائی کے مطالبے کی بھرپور حمایت کرتا ہے۔

دستخط کنندگان نے اسرائیلی فوج سے بین الاقوامی قوانین سے مطابقت رکھنے والے فوجی احکامات پر عمل درآمد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں