حماس کو شکست دینے کے لیے رفح پر اسرائیلی حملہ غلط اور غیر ضروری اقدام ہو گا: بلنکن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تعلقات میں مزید خرابی کو اجاگر کرتے ہوئے جمعرات کو کہا کہ غزہ کے جنوبی قصبے رفح پر اسرائیل کا کوئی بڑا زمینی حملہ " ایک غلطی" اور حماس کو شکست دینے کے لیے غیر ضروری ہو گا ۔

اس سے قبل بلنکن نے جنگ شروع ہونے کے بعد سے مشرق وسطیٰ کے اپنے چھٹے فوری اہمیت کے مشن کے دوران قاہرہ میں ممتاز عرب سفارت کاروں کے ساتھ جنگ بندی کی کوششوں اور غزہ کے تنازع کے بعد مستقبل پر تبادلہ خیال کیا۔

قاہرہ میں ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلنکن نے کہا "رفح میں کوئی بڑا فوجی آپریشن ایک غلطی ہو گی، جس کی ہم حمایت نہیں کرتے۔ اور، حماس سے نمٹنے کے لیے بھی یہ(حملہ) ضروری نہیں ہے۔" تاہم انہوں نے اس پر زور دیا کہ حماس سے نمٹنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بڑی کارروائی کا مطلب مزید عام شہریوں کی ہلاکت اور غزہ کے انسانی بحران کو بدترین کرنا ہو گا، انہوں نے کہا کہ جمعہ کو اسرائیل میں رفح پر، اور اگلے ہفتے واشنگٹن میں متبادل کارروائی پر بات چیت ہو گی۔

بلنکن نے کہا کہ حماس کے زیر حراست اسرائیلی یرغمالوں کی رہائی کے ساتھ ساتھ "فوری اور مستقل جنگ بندی کی ضرورت ہے اور ان بالواسطہ مذاکرات سے خلیج کم ہو رہی ہے جن میں امریکہ، مصر اور قطرنے ثالثی کے لیے ہفتوں گزارے ہیں۔

بلنکن، وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو اور ان کی جنگی کابینہ سے ملاقات کے لیے جمعہ کو اسرائیل جا رہے ہیں۔ نیتن یاہو اور صدر جو بائیڈن کے درمیان جنگ کے حوالے سے بڑھتے ہوئے اختلافات ممکنہ طور پر ان کی بات چیت پر غالب رہیں گے، اور خاص طور پر نیتن یاہو کے رفح پر زمینی حملہ کرنے کے عزم پر، جہاں دس لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں نے تباہ کن اسرائیلی زمینی اور فضائی حملوں سے پناہ حاصل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں