فلسطین اسرائیل تنازع

یکم مئی تک غزہ کے لیے نئی بندرگاہ تعیر کرنے کی امریکی دوڑ تیز

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن ایک جانب جنگ بندی کے لیے جاری نئے مذاکراتی مرحلے سے امید جوڑ رہے ہیں تو دوسری جانب امریکہ نے غزہ سے بحری رابطے اوربحری راستے سے رسائی کے لیے کوششیں تیز کر رکھی ہیں۔ اس نئی عارضی بندرگاہ کی تعمیر صدر جوبائیڈن نے یونین آف سٹیٹ خطاب میں اطلاع دی تھی۔

اب ایک سینئیر امریکی ذمہ دار نے جمعرات کو کہا ہے کہ یہ نئی عارضی بندرگاہ یکم مئی سے پہلے پہلے مکمل ہو سکتی ہے۔ اقوام متحدہ کا غزہ میں تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ کے نتیجے میں 23 لاکھ فلسطینی قحط کی زد میں ہیں۔ غزہ کے کئی علاقوں میں قحط کی حالت شدید ترین ہے۔

امریکہ نے چھٹے ماہ کی جنگ کے دوران ایک طرف امریکہ نے بعض دوسرے ملکوں کی دیکھا دیکھی فضائیہ کے ذریعے خوراک گرانا شروع کر دی اور بحری راستے سے بھی کوششوں کا اعلان کر دیا ۔اگرچہ ماہرین اور اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے ان کی کوششوں کو زمینی راستے سے امداد کی ترسیل کا متبادل نہیں دیکھتے ہیں۔

امریکی فوج غزہ کے لیے نئی بندرگاہ کی تعمیر کی جلد سے جلد تعمیر کے لیے ہر ممکن کوشش میں لگی ہوئی ہے۔ امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے چیف آف سٹاف کرٹس رائیڈ کے مطابق فوج کی ان کوششوں سے امکان ہے کہ یکم مئی سے پہلے ہی یہ بندر گاہ مکمل ہو جائے گی۔' قبرص میں صحافیوں کی طرف سے پوچھے گئے اس سوال پر کہ امریکی فوج امدادی سرگرمیوں کے لیے کیسے کام کرے گی؟ ریڈ نے کہا ' امریکی اہلکاروں کا ساحل کی طرف جانے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ '

ان کے مطابق غزہ کے اندر کی سیکیورٹی اسرائیل ہی کرے گا اور ایک وسیع علاقے کو محفوظ بنانے میں اہم کردار ادا کرے گا، جب کہ امریکہ اسرائیل کو اس محفوظ علاقے میں ' سیکیورٹی پارٹنرز فراہم کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس سلسلے میں امریکہ کی کئی ملکوں کے ساتھ بات بھی چل رہی ہے۔ '

گویا امریکہ سمندر میں موجود رہ کر اسرائیلی فوج کی غیر مرئی مدد کرے گی۔ نیز یہ ان بحری راستوں سے امدادی سرگرمیوں کا منصوبہ طویل مدتی ہو سکتا ہے فوری یا ہنگامی ضرورت کے لیے نہیں۔ کیونکہ ابھی مستقل جنگ بندی پر اسرائیل راضی نہیں ہے، اس سلسلے میں امریکہ بھی اسرائیلی موقف کے ساتھ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں