ایکواڈور : کم عمر ترین میئر اور حکومتی مشیر کا دوہرا قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوبی امریکہ کے ملک ایکواڈور میں کم عمر ترین میئر اور حکومتی مشیر کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا ہے۔ حکام اور پولیس نے الزام لگایا ہے کہ اس دوہرے قتل کے پیچھے منشیات کی سمگلنگ کرنے والوں کا کردار ہے۔ جو ملک میں تشدد کے فروغ کا بھی باعث بن چکے ہیں۔

کم عمر ترین میئر 27 سالہ برگیٹی گارشیا اور ان کے ایک مشیر کو اتوار کی صبح ان کی گاڑی کے اندر مردہ پایا گیا۔ نیشنل پولیس کا کہنا ہے کہ ان دونوں ہلاکتوں کے بارے میں تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ان دونوں کی فائرنگ سے ہلاکت کے بعد ان کی لاشیں صوبہ منابی سے ملی ہیں۔

گارشیا سابق صدر رافیل کوریا کی شہری انقلاب پارٹی سے وابستہ تھے۔ پارٹی کے صدارتی امیدواروں کورریا اور لوئیسا گونازالیز نے گارشیا کی اس ہلاکت کو قتل قرار دیا ہے۔ امیدواروں کا یہ بیان سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر سامنے آیا ہے۔ گونازالیز نے کہا 'میں اسی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ ہمارے ساتھی میئر کو قتل کیا گیا ہے۔ میرے پاس اس موقع پر الفاظ نہیں ہیں کہ میں اس صدمے والی خبر پر تبصرہ کر سکوں۔ بس یہ کہوں گا کہ اس وقت ایکواڈور میں کوئی بھی شخص محفوظ نہیں ہے۔'

واضح رہے میئر گارشیا کا قتل کسی سیاسی شخصیت کا تازہ ترین قتل ہے۔ اس سے پہلے ملک میں صدارتی امیدوار فرنینڈو ویلاسینسیو کو پچھلے اگست میں قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ ملک میں کرپشن اور منظم جرائم کے شدید نقادوں میں سے ایک تھے۔ انہیں الیکشن سے صرف دو ہفتے پہلے اس وقت قتل کر دیا گیا جب وہ اپنی انتخابی مہم کے سلسلے میں تقریب سے واپس آرہے تھے۔

ایکواڈور کے صدر ڈینیئل نوبوا نے ملک میں ہنگامی حالت کا نفاذ کر رکھا ہے۔ اس کی وجہ مسلح لوگوں کا ایک ٹی وی سٹیشن پر براہ راست نشریات کے دوران چڑھ دوڑنا تھا۔ صدر ڈینیئل نوبوا نے 22 جرائم پیشہ گروپوں کو دہشت گرد قرار دیا ہے۔ جبکہ اسی ماہ کے شروع میں ہنگامی حالت میں مزید توسیع کر دی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں