روزہ توڑنے والے سے اس کا سبب نہیں پوچھا جانا چاہیے: مفتی اعظم مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

مصر کے مفتی اعظم ڈاکٹر شوقی علام نے کھلے عام روزہ توڑنے پر تنقید کی لیکن انہوں نے کہا کہ روزہ توڑنے والے سے اس کا سبب نہیں پوچھا جانا چاہئیے۔

انہوں نے رمضان کے ایک پروگرام "مفتی سے استفسار" میں وضاحت کی کہ رمضان المبارک میں بغیر کسی عذر کے دن کے وقت لوگوں کے سامنے کھلے عام روزہ توڑنا گناہ کبیرہ ہے اور روزہ توڑنے والے پر ان دنوں کی قضا لازم ہے۔

تم کیوں کھاتے ہو؟

لیکن ساتھ ہی انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ ’’کھانے والے سے یہ پوچھنا ضروری نہیں کہ تم کیوں روزہ کھاتے ہو؟‘‘ کیونکہ اس کا جواب مثال کے طور پر سفر کے بہانے ہو سکتا ہے اور سوال کرنے والا سوال پوچھ کر خود بھی شرمندہ ہوسکتا ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسباب تلاش کرنا ضروری نہیں جن کی وجہ سے لوگ افطار کرتے ہیں بلکہ دن کو روزے کھانےکے لیے عقلمندی ضروری ہے ۔ انہیں چاہیے کہ وہ شکوک و شبہات کی جگہوں سے بچیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ یہ آگاہی پروگرام رمضان کے دوران اکثر بہت زیادہ پسند کئے جاتے ہیں کیونکہ لاکھوں مصری رمضان کے مہینے میں مقامی اور عرب اسکرینوں کو دیکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں