ماسکو حملے میں زندہ گرفتار چار حملہ آور عدالت میں پیش، ملزمان کا اعتراف جرم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

گذشتہ جمعہ کو ماسکو کے قریب ایک کنسرٹ ہال کو نشانہ بنانے والے ہولناک حملے سے متعلق نئی پیش رفت میں چار گرفتار ملزمان کے اعترافی بیانات سامنے آئے ہیں۔ یہ بیانات انہوں نے ایک عدالت کے سامنے پیشی کے موقعے پر دیے۔

خیال رہے کہ ماسکو کے کنسرٹ ہال پر حملے میں دو سو کے قریب لوگ ہلاک ہو گئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم ’داعش‘ نے قبول کی تھی۔

اس حملے میں ملوث چار ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے اور ان کی شناخت سامنے آئی ہے۔

ماسکو حملے کے ملزم رشابلیزود سعیدکرامی کو عدالت کے اندر سے دیکھا گیا۔
ماسکو حملے کے ملزم رشابلیزود سعیدکرامی کو عدالت کے اندر سے دیکھا گیا۔

ماسکو سٹی کورٹ کی پریس سروس کے مطابق گرفتار ملزمان میں پہلے ملزم کا نام دلرجون مرزوئیف اور اس کی عمر 32 سال ہے جو تاجکستان کا شہری ہے۔ اس کے چار نابالغ بچے ہیں۔ اس نے روسی دارالحکومت پر ہونے والے خونریز حملے میں اپنے خلاف تمام الزامات کا اعتراف کر لیا۔

فریدونی شمس الدین
فریدونی شمس الدین

العربیہ/الحادث کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق مرزوئیف کے پاس روس کے نووسیبرسک میں تین ماہ کے لیے عارضی رہائش کاویزہ تھا۔

دہشت گرد حملہ کیس کا دوسرا ملزم رشابالیزود سعیدکرامی بتایا جاتا ہےجو 1994 میں پیدا ہوا تھا۔ اس نے ایک مترجم کے ذریعے عدالت میں بات کی۔

دہشت گرد حملہ کیس کا تیسرا ملزم فریدونی شمس الدین ہے جو 1998ء میں تاجکستان میں پیدا ہوااور اس ملک کا شہری ہے۔ اس کا ایک آٹھ ماہ کا بچہ ہے۔ فریدونی روس میں ایک فیکٹری میں کام کرتا تھا۔

جبکہ چوتھے ملزم کی شناخت محمد سبیر فیضوف کے نام سے کی گئی ہے جسے وہیل چیئر پر عدالت پہنچایا گیا۔

اس سے پہلےخونریز حملے میں حصہ لینے والے دو مشتبہ افراد اتوار کو ماسکو کی ڈسٹرکٹ کورٹ میں پیش کیے گئے تھے۔

کل اتوار کو روسی عدالت کو روسی تحقیقاتی سروس کی طرف سے ماسکو کے مضافات میں کراسنوگورسک میں کروکس سٹی ہال پر حملے میں شریک 4 افراد کو قید کرنے کی درخواست موصول ہوئی جس میں 152 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

عدالت کے مطابق حملے میں شریک دو ملزمان رشاپلیزوڈا سداکرامی مرودالی اور مرزوئیف دلرجون پر "دہشت گردانہ حملے" کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

روسی تحقیقاتی سروس نے دو دیگر حملہ آوروں فیضوف محمد سبیر اور فریدونی شمس الدین پر بھی "دہشت گردانہ حملے" کا الزام لگایا اور انہیں عدالت میں لے جایا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں