اسرائیلی وزیر دفاع کے ساتھ مذاکرات ’تعمیری‘ تھے: مشیر وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وائٹ ہاؤس کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے کہا ہے کہ ان کی اسرائیلی وزیر دفاع یوآو گیلنٹ کے ساتھ "تعمیری بات چیت" ہوئی ہے۔ گیلنٹ اس وقت واشنگٹن کے دورے پر ہیں۔

انہوں نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ’ایکس‘ پر مزید کہا کہ "میں نے غزہ میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے اضافی اقدامات کرنے کے لیے گیلنٹ کے عزم کا خیر مقدم کیا"۔

یہ بیانات اسرائیل کی جانب سے اس بات کی تصدیق کے بعد سامنے آئے ہیں کہ غزہ کی پٹی میں "فوری جنگ بندی" کے لیے سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد کو ناکام بنانے کے لیے واشنگٹن کا اپنا ویٹو استعمال کرنے میں ناکامی "جنگی کوششوں اور مغویوں کی رہائی کی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے۔"

بنجمن نیتن یاہو کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "امریکی پوزیشن میں تبدیلی کی روشنی میں وزیر اعظم نے فیصلہ کیا کہ وفد (جسے امریکی صدر جو بائیڈن کی درخواست پر واشنگٹن بھیجنے کا اعلان کیا گیا تھا) وہ اب امریکہ نہیں جائے گا "۔

'ہم نے اپنا موقف نہیں بدلا'

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے پیر کے روز کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر ووٹنگ سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی عدم دلچسپی کا مطلب "سیاسی موقف میں تبدیلی" نہیں ہے۔

جان کربی نے وضاحت کی کہ واشنگٹن جس نے پہلے اسی طرح کی کئی قراردادوں کے مسودے کو روکا تھا اس قرارداد کی حمایت نہیں کی کیونکہ اس میں حماس تحریک کی مذمت جیسے "بنیادی" الفاظ کی کمی تھی۔

وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اسرائیلی وفد کا واشنگٹن نہ آنا مثالی فیصلہ نہیں ہے۔ ہمیں بہت مایوسی ہوئی ہے کہ اسرائیلی وفد نے رفح کے حوالے سے جامع مذاکرات کے لیے واشنگٹن کا دورہ نہیں کیا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں