امریکہ کا ویٹو سے باز رہنا جنگ کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گا: نیتن یاھو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی وزیر اعظم نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں "فوری جنگ بندی" کی سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد کو ناکام کرنے کے لیے ویٹو کے استعمال میں واشنگٹن کی ناکامی جنگی کوششوں اور یرغمالیوں کی رہائی کی کوششوں کو نقصان پہنچائے گی۔

نیتن یاہو کے دفتر سے جاری بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی موقف میں تبدیلی کے تناظر میں وزیر اعظم نے فیصلہ کیا ہے کہ اسرائیلی وفد، جسے امریکی صدر جو بائیڈن کی درخواست پر واشنگٹن بھیجنے کا اعلان کیا گیا تھا، اب امریکہ نہیں جائے گا۔

ہم نے سیاسی موقف تبدیل نہیں کیا

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے پیر کو کہا کہ غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرنے والی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد پر ووٹنگ سے ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی عدم دلچسپی کا مطلب سیاسی پوزیشن میں تبدیلی نہیں ہے۔ جان کربی نے کہا واشنگٹن اس قرارداد کی حمایت نہیں کی کیونکہ اس میں حماس تحریک کی مذمت جیسے "بنیادی" عناصر کی کمی تھی۔ یاد رہے امریکہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا، تاہم اس سے قبل امریکہ نے جنگ بندی کی تین قرار دادوں کو ویٹو کردیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے اسرائیلی وفد کا واشنگٹن نہ آنا مثالی نہیں ہے۔ ہمیں بہت مایوسی ہوئی ہے کہ اسرائیلی وفد نے رفح کے حوالے سے جامع مذاکرات کے لیے واشنگٹن کا دورہ نہیں کیا۔

پینٹاگون کا تبصرہ

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) نے کہا ہے کہ وزیر لائیڈ آسٹن اب بھی واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر دفاع یوو گیلنٹ سے ملاقات کا منصوبہ بنا رہے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان میجر جنرل پیٹ رائڈر نے کہا کہ منگل (آج) کو پینٹاگون میں ہونے والی ملاقات میں حماس کے ہاتھوں یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں فلسطینی شہریوں کو مزید انسانی امداد پہنچانے کی ضرورت سمیت متعدد موضوعات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

ایک امریکی عہدیدار نے انکشاف کیا ہے کہ سلامتی کونسل میں امریکہ کی جانب سے ووٹنگ میں عدم شرکت پر اسرائیل کے ردعمل سے واشنگٹن پریشان ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے اسرائیل کی مذاکرات سے دستبرداری ایک مبالغہ آمیز ردعمل ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ صدر جو بائیڈن اس وقت نیتن یاہو سے رابطہ کرنے کا ارادہ نہیں کر رہے ہیں۔ رفح پر اسرائیلی حملہ قریب نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے کہا نیتن یاہو کے فیصلے کی وجہ اسرائیل میں اندرونی سیاسی کشیدگی ہو سکتی ہے۔

فوری جنگ بندی

واضح رہے سلامتی کونسل نے پیر کو ایک قرارداد کا مسودہ منظور کیا ہے جس میں ماہ رمضان کے دوران غزہ کی پٹی میں فوری جنگ بندی کا اس شرط کے ساتھ مطالبہ کیا گیا کہ یہ جنگ بندی مستقل جنگ بندی اور تمام قیدیوں کی غیر مشروط رہائی کا باعث بنے۔

پندرہ رکنی سلامتی کونسل کے 10 ملکوں کے قرار داد پیش کی اور 14 ارکان نے اس کی حمایت کی ۔ امریکہ نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔

اقوام متحدہ میں الجزائر کے نمائندے عمار بن جامع نے کہا کہ قرارداد نمبر 2728 جسے کونسل نے آج رمضان جنگ بندی کے حوالے سے منظور کیا، طویل عرصے سے التوا کا شکار تھی۔ انہوں نے سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا کہ وہ اس قرارداد پر عمل درآمد کے لیے کام کرے۔

سلامتی کونسل میں امریکی مندوب لنڈا تھامس گرین فیلڈ نے کونسل ارکان سے حماس پر مذاکرات کے ذریعہ سمجھوتہ کرنے کا دباؤڈالنے کا مطالبہ کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں