اسرائیل کے بین الاقوامی قوانین کی تعمیل پر امریکی جائزے تاحال جاری ہیں: محکمۂ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی محکمۂ خارجہ نے منگل کو کہا، بائیڈن انتظامیہ تاحال اس نتیجے پر نہیں پہنچی ہے کہ اسرائیل نے جنگ کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے لیکن اس کے جائزے کا عمل جاری ہے اور ابھی حتمی اور فیصلہ کن جائزہ پیش کرنا باقی ہے۔

ایک نیوز بریفنگ میں بات کرتے ہوئے محکمے کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ انتظامیہ نے فروری کی قومی سلامتی کی یادداشت کے حصے کے طور پر 8 مئی تک امریکی کانگریس کو ایک رپورٹ پیش کرنی تھی جو امریکی ہتھیار حاصل کرنے والے ممالک کو یاد دلاتی ہے کہ وہ بین الاقوامی قانون پر قائم رہیں اور انسانی امداد کا راستہ نہ روکیں۔

ملر نے کہا، "بین الاقوامی انسانی قانون کے ساتھ ان کی تعمیل کا جائزہ لینے کے لیے یہ عمل جاری ہیں۔ وہ کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔"

"اور اگلا مرحلہ یہ ہے کہ ہم کانگریس کو ایک رپورٹ فراہم کرنے والے ہیں -- یہ اگلی ضروری چیز ہے جو 8 مئی کو اس یادداشت کو درکار ہے -- جہاں ہم ان مسائل کو مزید تفصیل سے دیکھیں گے۔"

میمو میں امریکی فوجی سازوسامان کے استعمال کے بارے میں نئی شرائط تو عائد نہیں کی گئیں لیکن بائیڈن انتظامیہ کو 90 دنوں کے اندر کانگریس کو رپورٹ ضرور بھیجنا ہوتی ہے کہ آیا ممالک ضروری باتوں کو پورا کر رہے ہیں۔

ایک امریکی اہلکار نے بتایا کہ میمو کی ضرورت کے مطابق اسرائیل نے گذشتہ ہفتے تحریری یقین دہانیاں جمع کرائی تھیں جس میں کہا گیا ہےکہ اس کے غزہ میں انسانی قوانین کی خلاف ورزی کے لیے امریکہ کے فراہم کردہ ہتھیاروں کا استعمال نہیں کیا جا رہا۔

غزہ پر اسرائیل کی فوجی کارروائی میں انکلیو کے حکام کے مطابق اب تک 32000 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔

چونکہ گنجان آباد انکلیو میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور خوراک کی شدید قلت نے قحط کے خدشات پیدا کر دیئے ہیں تو اسرائیلی فوج کے طرزِ عمل کی جانچ پڑتال میں اضافہ ہوا ہے جبکہ امریکی صدر جو بائیڈن سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اسرائیل کو بھیجے جانے والے ہتھیاروں پر شرائط عائد کریں۔

واشنگٹن اپنے دیرینہ اتحادی اسرائیل کو 3.8 بلین ڈالر کی سالانہ فوجی امداد دیتا ہے۔ بائیں بازو کے ڈیموکریٹس اور عرب امریکی گروپوں نے بائیڈن انتظامیہ کی اسرائیل کے لیے ثابت قدم حمایت پر تنقید کی ہے جو ان کے مطابق اسرائئل کو استثنیٰ کا احساس فراہم کرتی ہے۔

انسانی حقوق کے گروپوں نے غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران شہریوں کو نقصان پہنچانے کے متعدد واقعات کی نشاندہی کی ہے لیکن اب تک بائیڈن انتظامیہ نے کہا ہے کہ اس نے ایسا کوئی اندازہ نہیں لگایا ہے جس میں اسرائیل کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں ملوث پایا ہو۔

کیا امریکی حکام مئی کے اوائل میں کانگریس کو اپنی رپورٹ پیش کرنے سے پہلے اس سوال پر کسی نتیجے پر پہنچ جائیں گے، اسکے بارے میں سوال پر ملر نے کہا یہ جاننے کے لیے ایک فعال طریقہ موجود ہے کہ رپورٹ کیسی ہو گی۔

انہوں نے کہا، "یہ بالکل نیا طریقہ ہے۔ ہم نے ان میں سے کوئی رپورٹ پہلے کبھی نہیں کی ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں