امریکہ، پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی حمایت نہیں کرتا: میتھیو ملر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے روزانہ کی بریفنگ میں امریکہ کے اس موقف کا اعادہ کیا کہ امریکہ کہہ چکا ہے کہ وہ پاکستان اور ایران پائپ لائن منصوبے کی حمایت نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی توانائی کی ضروریات میں مدد امریکہ کی ترجیح ہے۔

یہ بیان انہوں نے منگل کو واشنگٹن میں نیوز بریفنگ کے دوران پاکستان کے ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن کے منصوبے سے متعلق ایک سوال کے جواب میں دیا۔

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر کا کہنا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ پابندی کی کارروائیوں کا جائزہ نہیں لیں گے لیکن ’ہم ہمیشہ ہر ایک کو مشورہ دیتے ہیں کہ ایران کے ساتھ کاروبار کرنے سے ہماری پابندیوں کو چھونے اور ان کے دائرے میں آنے کا خطرہ ہے اور ہر ایک کو اس پر بہت احتیاط سے غور کرنے کا مشورہ دیں گے۔ جیسا کہ اسسٹنٹ سیکریٹری نے گذشتہ ہفتے واضح کیا تھا، ہم اس پائپ لائن کو آگے بڑھانے کی حمایت نہیں کرتے۔‘

جنوبی ایشیا کے لیے امریکی اسسٹنٹ سیکریٹری آف سٹیٹ ڈونلڈ لو نے بدھ کو واشنگٹن ڈی سی میں وزارت خارجہ کی ذیلی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان اور ایران گیس پائپ لائن منصوبے سے متعلق سوال کے جواب میں کہا تھا کہ وہ ’اس پائپ لائن کو روکنے کے لیے امریکی حکومت کے مقصد کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔‘

ڈونلڈ لو نے کمیٹی میں پوچھے گئے سوال پر کہا تھا کہ اسلام آباد انتظامیہ کی جانب سے فروری میں ایران پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن کے 80 کلومیٹر طویل حصے کی تعمیر کی منظوری کے بعد ان کا ملک اس منصوبے کی تعمیر روکنے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس سے قبل منگل کو ہی پاکستان کے وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے کہا تھا کہ ہم امریکی پابندیوں سے استثنیٰ مانگیں گے۔ پاکستان گیس پائپ لائن منصوبے میں پابندیوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

ادھر وزیر پیٹرولیم ڈاکٹر مصدق ملک نے صحافیوں سے غیر رسمی بات چیت اس رائے کا اظہار کیا تھا کہ حکومت لابنگ سمیت متعلقہ فورمز پر تیکنیکی، سیاسی اور اقتصادی بنیادوں پر استثنیٰ کی کوشش کرے گی۔ ڈاکٹر مصدق نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کی ذمہ داریوں کی تعمیل کرتے ہوئے اس منصوبے پر جلد تعمیر شروع ہو جائے گی۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر مصدق ملک کا کہنا تھا کہ قدرتی گیس کی فراہمی شہروں میں صرف ایک چوتھائی آبادی تک محدود ہے جب کہ 70 فی صد سے زیادہ دیہی آبادی کو قدرتی گیس تک رسائی نہیں ہے۔

اس وقت پاکستان میں تقریباً 99 فی صد آبادی بجلی سے منسلک ہے۔ اس لیے حکومت کو قدرتی گیس کو مؤثر پاور پلانٹس کی طرف موڑ کر بجلی کی لاگت میں کمی کو بھی یقینی بنانا ہو گا۔

یاد رہے کہ 21 مارچ 2024 کو پاکستانی دفتر خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ ’پاکستان نے بارہا پاک ایران گیس پائپ لائن پر اپنے عزم کی تجدید کی ہے۔ پاک ایران گیس پائپ لائن پر فیصلہ حکومت پاکستان کا اپنا فیصلہ ہو گا۔‘

ترجمان نے کہا تھا کہ ’یہ پائپ لائن پاکستان اپنے علاقے میں تعمیر کر رہا ہے، اس وقت پہلا نکتہ گیس پائپ لائن کی تعمیر ہے، ہم اس تعمیر کے لیے پر عزم ہیں۔‘

ماہرین کے مطابق پاک ایران گیس پائپ لائن پر پاکستان کو دوہری مشکلات کا سامنا ہے کیوں کہ اگر ایران اس معاملے پر ثالثی کے لیے آگے بڑھتا ہے تو پاکستان کو جرمانے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

ایران کی جانب سے جرمانے سے بچنے کے لیے نگراں حکومت نے گزشتہ ماہ 158 ملین ڈالر کے تخمینے سے ایرانی سرحد سے گوادر تک پھیلی گیس پائپ لائن کے 80 کلومیٹر حصے کی تعمیر شروع کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

اس منصوبے کو انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز (پرائیویٹ) لمیٹڈ (آئی ایس جی ایس) کے ذریعے عمل میں لایا جائے گا جو پیٹرولیم ڈویژن کا ایک ادارہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں