کیا کسی ایرانی کمانڈر نے سمندر میں حوثیوں کے پہلے حملے کو لیڈ کیا تھا؟

کیا امریکہ اس ایرانی کمانڈر کا تعاقب کررہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک طرف بحیرہ احمر میں کشیدگی جاری ہے جہاں سے 15 فیصد عالمی تجارت گذرتی ہے بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے بعد امریکہ ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثی گروپ کو روکنے کے لیے اپنے جوابی حملے جاری رکھے ہوئے ہے۔

تاہم بحیرہ احمر میں امریکی بحری بیڑے کے مشن کو رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

ایڈمرل مارک میگیز نے آئزن ہاور جہاز پر سوار ہوتے ہوئے اعتراف کیا کہ حوثیوں کو مکمل طور پر روکنے کے مشن کی تکمیل کے لیے تاریخ کا تعین کرنا ممکن نہیں، کیونکہ انہیں ایران کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

ان کا خیال تھا کہ حوثیوں کا کارگو بحری جہازوں پر حملوں میں کروز میزائلوں کے استعمال سے کم خطرناک ڈرونز کی طرف منتقل ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی حملوں نے گروپ کو متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔

بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے اعتراف کیا کہ امریکی انٹیلی جنس کے پاس ابتدائی طور پر حوثیوں کے پاس موجود میزائلوں کی تعداد کے بارے میں کوئی معلومات نہیں تھیں۔

دوسری جانب ایک مغربی اہلکار کا کہنا ہے کہ حوثی آنے والے کئی مہینوں تک حملے جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

'حملوں کو روکنے کی کوئی وجہ نہیں ہے'

متعدد امریکی عہدیداروں نے نشاندہی کی کہ فی الحال ایسا کوئی اشارہ نہیں ہے کہ ایران جس کے بغیر حوثی اپنے حملے زیادہ دیر تک جاری نہیں رکھ سکتے ہیں حملوں کو روکنے کی کوئی وجہ دیکھتا ہے، خاص کر چونکہ اس کی تیل کی برآمدات متاثر نہیں ہوئیں، کیونکہ تیل بردار جہاز زیادہ تردوسرا راستہ استعمال کرتے ہیں۔

نیز تہران کو امریکی انتباہات کا اب تک کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

حوثی حملوں کی ہدایت

یہ ایرانی کمانڈر عبدالرضا شہلائی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے اکتوبر میں یمن کے اندر سے پہلے حوثی حملوں کی ہدایت کی تھی، جس کی زمین سے براہ راست انٹیلی جنس معلومات کے حامل متعدد افراد نے تصدیق کی تھی۔

شہلائی جس پر امریکہ کی طرف سے خطے میں امریکیوں کے خلاف مہلک حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا جاتا ہے کو حوثی ڈرون اور میزائل فورسز کا ڈی فیکٹو لیڈر سمجھا جاتا ہے۔

باخبر ذرائع کے مطابق وہ گروپ کے رہ نما عبدالماک الحوثی کے ساتھ براہ راست رابطہ بھی کرتا ہے۔

بحیرہ احمر میں ایک امریکی جہاز - رائٹرز
بحیرہ احمر میں ایک امریکی جہاز - رائٹرز

چار سال پہلے امریکہ نے اس کے بارے میں کوئی بھی معلومات فراہم کرنے والے کو 15 ملین ڈالر کے انعام کی پیشکش کی تھی۔

اس وقت یہ انکشاف ہوا تھا کہ شہلائی جسے یوسف ابو الکرخ اور حاجی یوسف کے نام سے بھی جانا جاتا ہے صنعا میں مقیم ہے اور ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز ہے۔

اس کی دنیا بھر میں امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کو نشانہ بنانے کی بھی ایک طویل تاریخ ہے۔

اس کے علاوہ اس پر عراق میں اتحادی افواج کے اندر متعدد قتل کی منصوبہ بندی کرنے اور شیعہ دھڑوں کو ہتھیار اور دھماکہ خیز مواد فراہم کرنے کا الزام ہے۔

اس پر 20 جنوری 2007 کو عراقی شہر کربلا میں حملے کی منصوبہ بندی کرنے کا بھی الزام ہے، جس کے نتیجے میں واشنگٹن کے مطابق پانچ امریکی فوجی ہلاک اور تین دیگر زخمی ہوئے تھے۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایران حوثیوں کو ہتھیاروں، سازوسامان حتیٰ کہ ہدایات اور انٹیلی جنس معلومات کے ذریعے سپورٹ کرنے کا اعتراف نہیں کرتا بلکہ اس کا کہناہے کہ وہ ان کے موقف کی حمایت کرتا ہے۔البتہ وہ اپنے فیصلے خود کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں