امریکی صدر کے خصوصی طیارے میں صحافیوں کی جانب سے لوٹ مار کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

صحافیوں کا پیشہ وارانہ کام کسی بھی جگہ ہونے والے جرم اور غیرقانونی سرگرمی کی نشاندہی کرنا ہے مگر آپ یہ جان کر حیران رہ جائیں گے کہ درجن بھر امریکی صحافیوں نے امریکی صدر جوبائیڈن کے خصوصی طیارے میں قیمتی اشیاء کی لوٹ مار کرکے ایک نئے اسکینڈل کو جنم دیا ہے۔

واشنگٹن میں ہنگامہ برپا کرنے والے اس بڑے اسکینڈل میں امریکی صدر کے طیارے ایئر فورس ون میں سوار پریس نمائندوں کے کمرے کے سامان کی چوری کے بڑے پیمانے پر ہونے والے شرمناک حقائق کا انکشاف ہوا ہے۔

’پولیٹیکو‘ کی رپورٹ کےمطابق پتہ چلا ہے کہ درجنوں صحافی جو عام طور پر امریکی صدر جو بائیڈن اور دیگر سابق صدور کے ساتھ ان کے غیرملکی دوروں پر جاتے ہیں خاموشی سے جہاز سے اترنے سے پہلے اپنے بیگوں میں کئی قیمتی چیزیں لے گئے۔ ان میں میں ویسکی کے گلاس، شراب کے منقش مگ اور طیارےمیں موجود تقریباً پر قیمتی چیز جو وہ لے جا سکتے تھےاپنے بیگوں میں ڈال کر لے گئے۔

چاکلیٹ کے تھیلے کافی نہیں ہیں

صدارتی ہوائی جہاز کا عملہ عام طور پر چاکلیٹ کے چھوٹے بیگ تقسیم کرتا ہے جس پر صدارتی مہر اور صرف امریکی صدر کے دستخط ہوتے ہیں۔

ایئر فورس ون کے لوگو والے مگ اور دیگر برتن آن لائن خریداری کے لیے دستیاب ہیں۔

لیکن ایسا لگتا ہے کہ صدارتی ہوائی جہاز میں سفر کرنے والے بہت سے رپورٹرز کے لیے یہ کافی نہیں تھا کیونکہ وہ اپنے بیگ میں بہت سی چیزیں لے اڑے جو انہیں اچھا لگا۔ بالکل اسی طرح جیسے بچے بعض اوقات ریستوراں یا شاید لگژری ہوٹلوں میں کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ایک بڑے اخبار کے وائٹ ہاؤس کے ایک سابق نامہ نگار نے یہاں تک کہ ایک ڈنر پارٹی کا اہتمام کیا، جس میں کھانا سنہری رنگ کی پلیٹوں کے سیٹ پر پیش کیا گیا تھا جو ایئر فورس ون سے چوری کر کے مراحل میں جمع کیا گیا تھا۔

سخت تنبیہ اور سرزنش

شاید یہی وجہ ہے کہ وائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کی ایسوسی ایشن نے گذشتہ ماہ اپنے اراکین کو ایک سخت انتباہ کے ساتھ ایک ای میل بھیجا جس میں کہا کہ صحافیوں نے پریس روم سے گمشدہ اشیاء کو یادگار کے طور پر رکھا ہوا ہے۔

تاہم صرف ایک نمائندے نے اس سرزنش کا جواب دیا، کیونکہ اس کے اور میڈیا کے ایک سرکاری اہلکار کے درمیان وائٹ ہاؤس کے سامنے ایک پارک میں ایک "خفیہ" ملاقات کا اہتمام کیا گیا تھا تاکہ ایک کڑھائی والا تکیہ واپس کیا جا سکے جو اس نے ایئر فورس ون کے نامہ نگاروں کے کیبن سے اٹھا لیا تھا۔

قابل ذکر ہے کہ 13 صحافی عموماً امریکی صدر کے دوروں میں ان کے ساتھ ہوتے ہیں اور وہ صدارتی بوئنگ طیارے کے عقب میں ایک کیبن میں بیٹھتے ہیں۔

میڈیا ان کے سفری اخراجات کو پورا کرتا جس میں جہاز پر انہیں پیش کیے جانے والے کھانے اور مشروبات بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں