محمود عباس کی نامزد کردہ نئی فلسطینی حکومت کا امریکہ کی طرف سے خیر مقدم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکہ نے رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کی نئی نامزد کردہ حکومت کا خیر مقدم کیا ہے۔ امریکہ کی طرف سے اس حکومت کو تسلیم کیے جانے کا مطلب ہے کہ سایسی اصلاحت کے ایجنڈے کی طرف پیش رفت سے امریکہ مطمئن ہے۔

واضح رہے امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے ماہ جنوری کے شروع میں فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس کو اپنی حکومت میں اصلاحات لانے کے لیے اس وقت کہا تھا جب حماس کے بعد کے غزہ کے منظر نامے کے حوالے سے بلنکن اسرائیل اور رام اللہ کی فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مشاورت کے مرحلے میں تھے اور سات اکتوبر سے غزہ میں شروع جنگ کے دوران اپنے پانچویں دورہ مشرق وسطیی پر تھے۔

محمود عباس رام للہ میں مضوبط فلسطینی شخصیت ہیں۔ انہیں 2005 میں فلسطینی اتھارٹی کا صدر منتخب ہونے کا موقع ملا تھا ۔ وہ تب اسے اب تک صدرات پر اسی ایک انتخاب کی بنیاد پر فائز ہیں۔ اس دوران دوبارہ صدارتی انتخاب نہیں ہوا ۔ اس لیے پچھلے 19 سال 87 سالہ محمود عباس فلسطینی اتھارٹی کے صدر چلے آرہے ہیں۔

امریکی جوبائیڈن انتظامیہ نے رام اللہ میں قائم فلسطینی اتھارٹی کو دوبارہ اس لیے متحرک دیکھنے کی خواہش کی تھی کہ حماس کے بعد غزہ کی پٹی کا انتظامی کنٹرول فلسطینی اتھارٹی سنبھال سکے۔جمعہ کی رات ایک بیان میں امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا ' امریکہ قابل اعتتماد اصلاحات کے لیے نئے فلسطینی وزیروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔ ملر کے مطابق مغربی کنارے اور غزہ دونوں میں استحکام لانے کے لیے فلسطینی اتھارٹی کو متحرک کرنا ضروری ہے۔ '

تاہم فلسطینی عوام میں فلسطینی اتھارٹی کی مقبولیت کافی کم ہو چکی ہے۔ فلسطینی عوام میں اچھا خاصا طبقہ فلسطینی اتھارٹی کو مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز کے ساتھ تعاون کی وجہ سے اسرائیلی قبضے کے لیے ایک ماتحت ٹھیکیدار سمجھتا ہے۔

امریکی فرمائش پر کہ فلسطینی اپنے اندر اصلاحات کرے صدر محمود عباس نے امریکی تعلیم یافتی محمد مصطفیی کو فلسطینی اتھارٹی کا وزیر اعظم نامزد کیا، بعد ازاں انہوں نے اپنی کابینہ کی تشکیل کی ہے، جس کا امریکہ نے جمعہ کی رات خیر مقدم کیا ہے۔

نئی فلسطینی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج غزہ کی پٹی ہی ہو گی جہاں چھ ماہ کی اسرائیلی جنگ کے باوجود حماس کے اثرات موجود ہیں۔ غزہ میں اب تک 32552 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ جبکہ غزہ کی آبادی کی بڑی تعداد بھوک اور قحط کی زد میں آچکی ہے۔

حماس نے فلسطینی اتھارٹی کی نئی نامزدگیوں اور کابینہ کو مسترد کر دیا ہے۔ حماس اور فلسطینی اتھارٹی کے درمیان ایک طویل عرصے سے سیاسی اختلافات موجود ہیں۔ حماس نے غزہ کی پٹی پر 2007 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے حکومت بنائی تھی۔ عوامی سطح پر حماس کی مقبولیت میں کافی شدت پائی جاتی ہے۔ مگر عالمی طاقتوں کے ہاں حماس کی قبولیت نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں