ہزاروں افراد کا فلسطین کے حق میں لندن میں مظاہرہ، چار مظاہرین گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

برطانوی دارالحکومت لندن میں ہفتہ کے روز ایک بار پھر ہزاروں افراد کا غزہ میں جنگ بندی اور فلسطینیوں کے حق میں بڑا مظاہرہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مظاہرین بھوک اور قحط کی زد میں آچکے فلسطینیوں کے لیے غزہ میں انسانی بنیادوں پر زیادہ امداد بھیجنے کا مطالبہ بھی کر رہے تھے۔

اس مظاہرے کا اہتمام 'فلسطین سولیڈریٹی کیمپین' نے کیا تھا۔ مظاہرے کا آغاز رسل چوک سے ہوا جو لندن شہر کے وسط میں واقع ہے۔ مظاہرین مارچ کرتے ہوئے ٹریفل گار چوک کی طرف گئے اور یہ سلسلہ بعد از دوپہر کے درمیان تک جاری رہا۔ اس دوران تھوڑی تعداد میں ایسے مظاہرین بھی نمودار ہوئے جو جواباً اسرائیل کی حمایت کر رہے تھے۔ لندن پولیس ان دونوں طرح کے مظاہرین کے درمیان صف بہ صف کھڑی تھی۔ تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ نہ پیش آئے۔

واضح رہے غزہ میں اسرائیلی جنگ کے شروع سے لے کر اب تک کئی بار ایسا ہو چکا ہے کہ ہزاروں لوگ فلسطینیوں کے حق میں اور جنگ کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے۔ اسی طرح اسرائیل کے حق میں بھی مظاہرین کی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیاں نکلتی رہی ہیں۔

تاہم فلسطینیوں کے حامیوں کی ریلیوں پر ان کے مخالفین یہ الزام عائد کرتے رہے ہیں کہ یہ یہودیوں کے خلاف دشمنی بڑھانے کا کام کر رہے ہیں۔ برطنیہ کے کنزرویٹیو پارٹی سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمان نے بطور خاص فلسطین کے حق میں ریلیاں نکالنے والوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے نفرت پر مبنی مارچ کرنے والے قرار دیا۔

فلسطین کے حامیوں کو برطانوی پولیس نے اب تک درجنوں کی تعداد میں حراست میں لیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے یہود مخالف نعرے لگائے، بینر لہرائے اور کالعدم تنظیموں کو فروغ دینے کے لیے ان کی حمایت کی۔ ہفتہ کے روز بھی پولسی حکام نے 4 مزید مظاہرین کو نفرت پر مبنی جرائم کے زمرے میں گرفتار کیا ہے۔ پولیس کے مطابق یہ امن و امان کو قائم رکھنے اور دہشت گردی کو روکنے کی کوشش کے طور پر کیا گیا ہے۔

لندن میٹرو پولیٹن پولیس نے کہا 'ایک شخص کو اس لیے بند کیا گیا ہے کہ وہ دہشت گردی سے متعلق جارحانہ انداز میں ایک کالعدم تنظیم کی حمایت کا اظہار کر رہا تھا۔ تاہم فلسطین کے ان حامیوں کا شروع سے یہ کہنا رہا ہے کہ وہ اپنے پر امن احتجاج کا حق استعمال کر رہے ہیں ارو جمہوری انداز سے اپنی بات پہنچا رہے ہیں۔

65 سالہ ایک ریٹائرڈ سماجی خاتون سیل ورگان نے مغربی انگلینڈ سے لمبا سفر کر کے فلسطینیوں کے حق میں اس ریلی کو جوائن کیا۔ اس سماجی کارکن کا کہنا تھا 'میرے خیال میں یہ بہت ضروری ہے کہ ہم فلسطینیوں کو بتائیں کہ وہ اکیلے نہیں ہیں اور ہم ان کے ستاھ ہیں۔'

منتظمین میں سے ایک بن جمال نے کہا 'ریلی کے شرکاء غزہ میں مستقل جنگ بندی چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ غزہ میں زیادہ سے زیادہ خوراک اور امدادی سامان فراہم کیا جائے اور اس کی ترسیل میں رکاوٹ نہ پیدا کی جائے۔' ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ 'ہم جانتے کہ 70 فیصد برطانوی شہری ان مطالبات کی حمایت کرتے ہیں۔ جیسا کہ رائے عامہ کے کئی جائزوں میں بھی یہ بات سامنے آچکی ہے۔'

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں