افغانستان: سیاسی جماعتوں پر پابندی کے بعد لفظ ’’ پارٹی‘‘ کا استعمال بھی جرم قرار

15 اگست 2021 کو افغانستان سے امریکی افواج کے انخلاء کے ساتھ ہی طالبان نے اقتدار پر قبضہ کر لیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افغانستان کی قائم مقام وزارت انصاف نے اعلان کیا ہے کہ ملک میں لفظ "پارٹی" کا استعمال ایک "جرم" ہے۔ انہوں نے پہلے کہا تھا کہ شرعی قانون میں سیاسی جماعتوں کے وجود کی کوئی بنیاد نہیں ہے اور ان کی سرگرمیاں عوام کے مفاد میں نہیں ہیں۔ ریڈیو فری یورپ کی افغان شاخ ریڈیو آزادی نے اطلاع دی ہے کہ افغانستان کے قائم مقام وزیر انصاف عبدالحکیم شرعی نے کابل میں ایک پریس کانفرنس میں اسلامک پارٹی کے رہنما گلبدین حکمت یار کی رہائش گاہ کے متعلق وضاحت دیتے ہوئے زور دیا کہ افغانستان میں سیاسی جماعتوں پر پابندی ہے اور "پارٹی" کا لفظ استعمال کرنا بھی طالبان قانون کے تحت جرم ہے۔

انہوں نے گزشتہ سال اگست میں ملک میں سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔ انہوں نے مزید کہا ان پارٹیوں کی کوئی جائز بنیاد نہیں ہے۔ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ افغانستان کی موجودہ بدقسمتی ان سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں کی وجہ سے ہے۔

امریکی آزادی ریڈیو کے مطابق طالبان کی جانب سے جماعتوں کو دبانے اور ختم کرنے کی کوششوں پر بہت سا رد عمل بھی سامنے آیا ہے۔ مثال کے طور پر افغانستان میں نیشنل موومنٹ فار پیس اینڈ ڈیموکریسی کے چیئرمین کے نائب معاون شاہ محمود میاخیل نے اپنے ردعمل میں کہا کہ افغان وزارت انصاف کے نئے بیانات برسر اقتدار حکمرانوں کو برقرار رکھنے کے لیے افغانستان میں پارٹی سرگرمیوں میں رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔

یاد رہے طالبان نے 15 اگست 2021 کو افغانستان سے امریکی اور نیٹو افواج کے انخلاء کے ساتھ ہی افغانستان میں اقتدار پر قبضہ کرلیا تھا۔ ابتدا میں طالبان نے اپنا نقطہ نظر تبدیل کرنے اور رواداری کا مظاہرہ کرنے کا وعدہ کیا تاہم جلد ہی انہوں نے ذاتی اور سیاسی آزادیوں کا دائرہ تنگ کرنا شروع کردیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں