فرانس میں مساجد کی توہین اور سور کا کٹا ہوا سر پھینکے جانا ناقابل قبول ہے: وزیر داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

فرانس کے وزیر داخلہ جیرالڈ درمانین نے مسجد کے باہر نسل پرستوں کی طرف سے سور کا سر کاٹ کر پھینکنے کو ناقابل قبول قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے یہ نسل پرستانہ اقدام ہے جو مسلمانوں کے خلاف فرانس کے مشرقی حصے میں کیا گیا ہے۔

اس اشتعال انگیزی کے واقعے پر ایک پراسیکیوٹر نے کہا ہے یہ نفرت پر مبنی نسل پرستانہ اشتعال انگیزی ہے۔ یہ اس وقت پیش آیا جب جمعہ کے روز ایک گآؤں کی مسلمان مسجد میں نماز کے لئے داخل ہوئے۔ تو وہاں جانور کا کٹا ہوا سر پڑا تھا۔

اس افسوسناک واقعے پر وزیر داخلہ نے ہفتے کے روز اپنے مذمتی بیان میں کہا ' اس ہفتے دو دیگر مساجد کی توہین کے ساتھ بھی ایسے واقعات شمالی فرانس میں پیش آ چکے ہیں تاکہ اشتعال انگیزی ہو سکے۔ یہ واقعات مسلمانوں کی مقدس مہینے رمضان المبارک میں پیش آئے تاکہ مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے جا سکیں ۔ واضح رہے کہ مسجد کی مسماری کا واقعہ بھی پیش آیا۔

وزیر داخلہ نے کہا اپنے ہم وطن مسلمانوں کے ساتھ یہ واقعات پیش آنا سخت قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں