فلسطین اسرائیل تنازع

امدادی کارکنوں نے اپنی سرگرمیوں کی پیشگی اطلاع فراہم کی تھی: اسرائیل کا اعتراف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ورلڈ سینٹرل کیچن نامی امریکی امدادی تنظیم سے وابستہ کثیر القومی عملے پر حملے کی دنیا بھر سے مذمت کے بعد اسرائیل نے تسلیم کر لیا ہے کہ امریکی امدادی تنظیم کے ارکان نے اپنی نقل وحرکت سے متعلق اسرائیلی فوج کو پیشگی اطلاع فراہم کی تھی، لیکن اس کے باوجود انہیں اسرائیلی بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔

امریکہ کی امدادی تنظیم ’ورلڈ سینٹرل کیچن‘ کے ارکان کو دیر البلح میں اپنے ویئر ہاؤس سے روانگی کے موقع پر اسرائیلی فوج نے بمباری کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی نے منگل کے روز اعلان کیا کہ غزہ کی پٹی پر اسرائیلی بمباری سے ہلاک ہونے والے سات امدادی کارکنوں نے انسانی امداد کی فراہمی کی غرض سے اپنی نقل وحرکت کی پیشگی اطلاع اسرائیلی فوج کو فراہم کی تھی۔

اتھارٹی کے مطابق اسرائیلی فوج نے واقعے کی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جبکہ سکیورٹی حکام نے رنج اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے ‘‘کہ عالمی سطح پر اس واقعے کے ہم پر انتہائی برے اثرات مرتب ہوئے ہیں کیونکہ اس کارروائی میں نشانہ بننے والے افراد دراصل غزہ میں انسانی امداد کی زیادہ سے زیادہ فراہمی کو یقینی بنانے میں مصروف تھے۔‘‘

اسرائیلی براڈکاسٹنگ اتھارٹی کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف ہرزی حلوی نے اس واقعے کے بعد سدرن کمان کے کمانڈر یارون وینکلمان اور غرب اردن وغزہ میں اسرائیلی حکومت کے کوارڈی نیٹر غسان علیان سے ٹیلی فون پر بات کی ہے۔

ان کا کہنا تھا اسرائیلی فوج جلد ہی واقعے کی ابتدائی تحقیقات مکمل کر کے اس کے نتائج سے عوام کو آگاہ کرے گی۔

یہ بات امریکی تنظیم ’ورلڈ سینٹرل کیچن‘‘ کے منگل کو سامنے آنے والے بیان کے بعد سامنے آئی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ امدادی تنظیم کا عملہ دو بکتر بند گاڑیوں پر سوار تھا اور وہ جنگ سے متاثرہ علاقے سے دور جا رہی تھی۔ بکتر بند گاڑی پر شناخت کے لیے تنظیم کا لوگو واضح طور پر آویزاں کیا گیا تھا۔

بیان میں بتایا گیا کہ ان بکتر بند گاڑیوں پر اسرائیلی فوج نے بمباری کی جس کے نتیجے میں ورلڈ سینٹرل کیچن سے وابستہ عملے کے سات افراد ہلاک ہو گئے۔ اس واقعے کے بعد تنظیم نے غزہ میں اپنا امدادی آپریشن روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں