امدادی کارکنوں پر اسرائیلی بمباری ، چھ لاشوں کی امریکہ سمیت انکے وطن واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیلی فوج کی بمباری کا نشانہ بننے والے چھ غیر ملکی کارکنوں کی لاشیں بدھ کی رات تک واپس ان کے ملکوں میں بھیج دی جائیں گی۔ ٍپیر کے روز اسرائیلی فوج نے اس وقت بمباری کر کے انہیں ہلاک کر دیا تھا جب چھ غیر ملکی کارکن ایک فلسطینی کارکن کے ساتھ مل کر غزہ کے بھوک اور قحط کی زد میں آئے فلسطینیوں میں خوراک تقسیم کرنے کی کوشش میں تھے۔

ان میں سے چھ کا تعلق اسرائیل کے مختلف اتحادی ملکوں سے تھا۔ رضا کاروں کی اس ٹیم نے اسرائیلی حکام کو پہلے سے آگاہ کر رکھا تھا کہ وہ غزہ میں قبرصی بندر گاہ سے سمندری راستے سے لائی گئی امداد کو تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن اس کا باوجود ان پر بمباری کر دی گئی۔

چھ کارکن امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا، پولینڈ، برطانیہ اور دیگر ملکوں کے شہری تھے۔ یہ تمام کارکن امریکی ادارے ' ورلڈ سینٹرل کچن' سے وابستہ ہو کر کام کر رہے تھے۔اب ان کی لاشوں کو بدھ کی رات تک مصر کے راستے واپس ان کے ملکوں کو واپس بھیجا جائے گا۔

پیر کے روز امدادی کارکنوں کو بمباری کر کے ہلاک کرنےکے واقعے پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہا ' یہ ناقابل تصور واقعہ ہے، اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔'

غزہ کے ابو یوسف النجار ہسپتال کے ڈائریکٹر مروان الحمس نے ان چھ بین الاقوامی امدادی کارکنوں کی باقیات رفح راہداری کے راستے واپس بھیجی جائیں گی۔ ان کے ساتویں ساتھی کا تعلق چونکہ فلسطین سے تھا اس لیے اس فلسطینی امدادی کارکن کی لاش کی تدفین یہیں کی جائے گی۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے سربراہ ہرزی حلوی نے اس حملے کو ایک سنگین غلطی تسلیم کر لیا ہے۔ تاہم فوجی سربراہ نے کہا ' یہ واقعہ رات کے وقت غلط شناخت کی وجہ سے پیش آیا ہے۔' اسرائیلی فوجی سربراہ نے ایک ویڈیو پر جاری کیے گئے پیغام میں مزید کہا 'ہمیں ' ورلڈ سینٹرل کچن' کے ارکان کے ہونے والے غیر ارادی نقصان پر افسوس ہے۔'

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے اس سے قبل کہا تھا کہ افسوسناک کیس کی تحقیقات آخر تک کی جائیں گی۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ جنگ میں ایسے واقعات ہو جاتے ہیں۔

سات امدادی کارکنوں کی اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کی وجہ سے عالمی سطح سے دباؤ بڑھا ہے۔ کیونکہ اس واقعے میں مرنےوالوں میں صرف ایک فلسطینی شہری تھا جبکہ چھ امدادی کارکن غیر ملکی تھے اور سب کے سب اسرائیل کے اتٖحادی ملکوں سے تھے ، اس کے باوجود اسرائیلی فوج نے کامل بے رحمی سے انہیں بھی بمباری کر کے ہلاک کر دیا۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ امدادی کارکنوں کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ انتظامات نہیں تھے۔ اس واقعے میں مارے جانے والوں کی ہلاکت کی تحقیقات کرائی جائیں کیونکہ یہ اپنی نوعیت کا اکیلا واقعہ نہیں تھا۔'

غزہ میں سات ہلاکتوں پر غصہ اور تشویش

غزہ میں اب تک 32 ہزار 916 فلسطینی اسرائیلی بمباری اور فائرنگ سے شہید ہو چکے ہیں مگر یہ پہلا موقع ہے کہ تعداد میں اگرچہ پیر کے روز ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کم ہے۔ اس کم تعداد کے باوجود اس کی پریشانی عالمی طاقتوں کی اعلی ترین قیادتوں کی سطح پر بھی محسوس کی گئی ہے۔ اسی وجہ سے ان کی موت کے بعد امریکی ادارے ' ورلد سینٹرل کچن ' نے اپنی بحیرہ روم میں سرگرمیاں بھی معطل کر دی ہیں۔

حتیٰ کہ ایک بحری جہاز 240 تن کی خوراک لے کر غزہ گیا تھا اس کا رض بحیرہ روم کی طرف موڑ دیا گیا ہے۔ اور اس سے امدادی سامان غزہ کی پٹی کی طرف اتارا نہیں گیا۔ اسرائیل کے ساتھ سفارتی سطح پر احتجاج بھی کیا جارہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں