بھارت : سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں 13 ماؤ باغی ہلاک ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت میں کم از کم 13 ماؤ پرست باغیوں کو ایک کارروائی کے دوران ہلاک کر دیا گیا ہے۔ بھارتی پولیس کے مطابق یہ واقعہ وسطی بھارت میں پیش آیا ہے۔

بدھ کے روز بھارتی سکیورٹی فورسز اور ماؤ پرست باغیوں کے ایک گروہ کے درمیان جدید آتشیں اسلحے سے تصادم ہوا ۔ جس کے نتیجے میں علیحدگی پسند باغیوں کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

واضح رہے بھارت میں دوسری کئی علیحدگی یا آزادی کی تحریوں کی طرح ماؤ پرستوں کی تحریک بھی پرانی باغیانہ تحریکوں میں سے ایک ہے۔ یہ تحریک بھارت میں کئی دہائیوں سے جاری ہے۔

بھارتی پولیس حکام کے مطابق منگل کے روز رہاست چھتیس گڑھ کے دور دراز کے جنگلوں میں سیکیورٹی فورسز کی ماؤ باغیوں کے ساتھ مڈ بھیڑ ہو گئی۔ مڈ بھیڑ کا علاقہ ضلع بیجا پور تھا۔ جہاں گھنے جنگلوں میں باغیوں نے پناہ لے رکھی تھی۔

سیکورٹی فورسز نے انہیں گھیرے میں لے لیا ۔ اس دوران تصادم میں باغیوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئی۔ جبکہ سیکیورٹی فورسز نے موقع سے اسلحے کی بھاری مقدار قبضے میں لے لی۔ مقامی پولیس سربراہ پی۔ سندراج نے بتایا ہے سیکیورٹی حکام نے باغیوں کا اسلحہ بھی قبضےمیں لے لیا۔ قبضے میں لئے گئے بھاری اسلحے میں بندوقیں، مشین گنیں اور دوسرا بارودی اسلحہ شامل تھا۔

پولیس حکام کے مطابق ابھی تک مارے گئے ماؤ باغیوں کی انفرادی شناخت ہونا باقی ہے۔
واضح رہے بھارت میں رواں سال کے دوران اب تک کی کارروائیوں میں 50 ماؤ پرست مارے جا چکے ہیں۔ ان میں 46 ریاست چتیس گڑھ میں ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ جبکہ بقیہ چار ماؤ باغی مہاراشٹرا میں ہلاک کئے گئے ہیں۔

بھارت میں مختلف ریاستوں میں اقلیتوں اور دوسری قومی شناختوں کے کے حامل باغی یا علیحدگی پسند گروپ موجود ہیں ۔ جن کو دبانے کے لئے بھارت نے لاکھوں کی تعداد میں فوجی و نیم فوجی دستے تعینات کر رکھے ہیں۔

انہی میں ماؤ نظریات کے حامل بھارتی ہیں۔جو ' ریڈ کاریڈور' میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ وسطی بھارت اور جنوبی و مشرقی بھارت کی ریاستوں میں زیادہ ہیں۔تاہم اب کہا جاتا ہے کہ ان کی تعداد میں سکڑاؤ آچکا ہے۔

بھارتی حکام کا کہنا ہے کہ 2010 میں بھارت کو 96 اضلاع میں باغی عناصر یا آزادی پسند تحریکوں کا سامنا تھا ۔ مگر اب یہ سکڑ کر 46 اضلاع تک رہ گئی ہیں۔ نریندر مودی کی سرکار نے باغیوں کے ساتھ ساتھ دوسری اقلیتی آبادیوں کو بھی اسی سختی سے نمٹا ہے جس سختی سے باغیوں کو نمٹا جا سکتا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں