ورلڈ سینٹرل کچن پر تیر بہ ہدف ہتھیاروں سے اسرائیلی حملہ اور امریکی ردِعمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیل کی جانب سے امریکی غذائی خیراتی ادارے ورلڈ سینٹرل کچن پر حملے کے بعد امریکہ نے کہا ہے کہ گنجان آباد ماحول میں لڑنا مشکل ہوتا ہے۔ اس حملے میں سات امدادی کارکنان ہلاک ہوئے جن میں سے چھ غیر ملکی شہری تھے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جان کربی نے العربیہ کی رپورٹر نادیہ بلبیسی کو بتایا، "شہری اور کثیف ماحول میں لڑنا، یہ مشکل ہے۔ لیکن انہوں [اسرائیل] نے غزہ میں حماس کے خلاف قطعی درست حملے کیے ہیں۔ انہوں نے ایسے حملے بھی کیے ہیں جو درست نہیں تھے۔ یہ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ کل جو کچھ ہوا وہ ان مثالوں میں سے ایک تھا۔"

ان کے تبصرے بلبیسی کے اس سوال کے جواب میں سامنے آئے ہیں کہ اسرائیل نے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کو خطے کی آبادی کی کثافت اور فوجی غلطیوں پر تفویض کیا ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ بیروت جیسے دیگر علاقوں میں حماس کے رہنماؤں کے خلاف درست حملے کیے ہیں جبکہ وہ بھی شہریوں سے کھچا کھچ بھرے ہیں۔

اسرائیل نے غزہ میں ورلڈ سینٹرل کچن کے امدادی کارکنوں کے قتل کو "سنگین غلطی" قرار دیا جو رات کے وقت "غلط شناخت" کی وجہ سے سرزد ہوئی۔

کربی نے کہا، امریکہ توقع کرتا ہے کہ اسرائیل حملے کی تحقیقات کرے گا اور جو کچھ سیکھا ہے اس کے بارے میں "حقیقت" بتائے گا۔

"وہ [اسرائیل] مکمل طور پر شفاف ہوں گے اور جن لوگوں کو جوابدہ ہونے کی ضرورت ہے ان کا احتساب کیا جائے گا۔"

چھ غیر ملکی امدادی کارکنان کی لاشیں بدھ کے روز مصر کے راستے جنگ زدہ فلسطینی علاقے سے باہر بھیج دی جائیں گی کیونکہ اسرائیل کو ان کی ہلاکت پر شدید غم و غصے کا سامنا ہے۔

سات ہلاکتوں نے اسرائیل پر مزید دباؤ ڈالا ہے جس کی سات اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد کی جنگ غزہ میں تباہی اور بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کا سبب بنی ہے جہاں اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ 2.4 ملین کی آبادی قحط کے دہانے پر ہے۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے الزام لگایا کہ اسرائیل نے "امدادی کارکنوں کی حفاظت کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے جو شہریوں کو اشد ضروری مدد پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں" اور اس واقعے کی "تیز" تحقیقات کا مطالبہ کیا جس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ "تنہا اور خودمختار واقعہ" نہیں تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں