امریکہ کا پاکستان کے ساتھ سلامتی سے متعلق امور پر پارٹنرشپ میں بہتری لانے کا عزم

سکھ رہنما کے قتل کی شفاف تحقیقات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں: ترجمان امریکی محکمہ خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ امریکہ پاکستان سے سکیورٹی شراکت کو وسعت دینے کے لیے کام جاری رکھے گا۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر سے پریس بریفنگ کے دوران جب وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے عالمی امن اور علاقائی سلامتی کے اہداف پر امریکہ کے ساتھ تعاون کی پیشکش کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ امریکہ بھی اس طرح کے تعاون کے لیے تیار ہے۔

یاد رہے کہ وزیر اعظم نے یہ پیشکش اس ہفتے کے شروع میں امریکی صدر جو بائیڈن کے ایک دوستانہ خط کا جواب دیتے ہوئے کی تھی جس میں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بنانے کی خواہش کا اظہار کیا گیا تھا۔

ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ ہم امریکہ اور پاکستان کے درمیان سیکورٹی پارٹنرشپ کو بڑھانے پر کام جاری رکھیں گے، جب ان سے پوچھا گیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر عسکریت پسند گروپوں سے لڑنے میں امریکہ پاکستان کی کس طرح مدد کر سکتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’ہم نے اس پر متعدد بار بات کرچکے ہیں کہ یہ ہماری اولین ترجیح ہے اور رہے گی۔‘

بھارتی انٹیلی جنس آپریٹر کی جانب سے نیویارک میں ایک سکھ وکیل کو قتل کرنے کی مبینہ کوشش کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں میتھیو ملر نے کہا کہ ’سکھ رہنما کے قتل کی شفاف تحقیقات چاہتے ہیں، ہم بھارتی تحقیقات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

واشنگٹن میں اپنی پریس بریفنگ کے دوران سکھ رہنما کے قتل کے معاملے پر ترجمان امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا تھا کہ ہم بھارت کی جانب سے سکھ رہنما کے قتل سے متعلق تحقیقات کے نتائج کا انتظار کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں