غزہ میں شفا ہسپتال کے مریضوں کا انخلا نہ ہوا تو وہ مر جائیں گے: ڈبلیو ایچ او

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ کی پٹی کے سب سے بڑے میڈیکل کمپلیکس شفا ہسپتال کو تباہ کرنے کے بعد وہاں سے اسرائیلی فوج کے نکلنے کے بعد عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس گیبریئس نے کہا ہے کہ شفا ہسپتال کی تباہی کے بعد وہاں سے مزید طبی انخلا کی ضرورت ہے۔ ہسپتال سے مریضوں کو نہ نکالا گیا تو مزید اموات ہو جائیں گی۔ گیبریئس نے کہا کہ طبی انخلا کی ضرورت والے لوگوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو گا۔ طبی بنیادوں پو لوگوں کا انخلا پہلے ہی سست روی کا شکار ہے۔

ٹیڈروس گیبریئس نے مزید کہا کہ لوگ اس لیے مریں گے کہ انہیں طبی خدمات نہیں ملیں گی۔ یہ اموات صحت یاب ہونے میں سستی سے اور انخلا کی سست رفتاری کے باعث ہوں گی۔ انخلا کے عمل کو تیز کیا جانا چاہیے، ورنہ ہم بہت سے لوگوں کو کھو دیں گے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ غزہ کے 36 ہسپتالوں میں سے اب صرف 10 ہسپتال جزوی طور پر سروسز فراہم کرنے کے قابل رہ گئے ہیں۔

تباہ حال نظام صحت

مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں عالمی ادارہ صحت کے نمائندے رچرڈ پیپرکورن نے کہا ہے کہ شفا ہسپتال کی تباہی سے ہزاروں افراد صحت کی دیکھ بھال سے محروم ہو جائیں گے۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ کسی طرح بھی مریضوں کو شمالی غزہ کی پٹی میں صحت کی دیکھ بھال فراہم کرنے والی دیگر سہولیات میں منتقل کیا جائے۔ یاد رہے شفا میڈیکل کمپلیکس جنگ سے پہلے غزہ کا سب سے بڑا ہسپتال تھا جس میں 750 بستر اور متعدد آپریٹنگ روم تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں