فلسطین اسرائیل تنازع

فلسطینی ریاست کا قیام اقوام متحدہ کے ذریعے نہیں کیا جانا چاہیے : امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکہ نے فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت حاصل کرنے کی تازہ کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ فلسطینی ریاست کا فیصلہ اقوام متحدہ کے ذریعے نہیں کیا جانا چاہیے۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے کہا کہ 'ہم ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے حامی ہیں مگر اس کے بارے میں فیصلہ اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کے بعد ہونا چاہیے۔'

ترجمان نے مزید کہا 'یہ وہ چیز ہے جو فریقین کے درمیان براہ راست مذاکرات کے نتیجے میں ہونی چاہیے۔ ہم اس وقت جس چیز کو آگے بڑھانا چاہ رہے ہیں وہ اقوام متحدہ کے ذریعے نہیں ہونی چاہیے۔' تاہم امریکی ترجمان نے اس موقع پر یہ نہیں کہا کہ اگر ایسی کوئی قرارداد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں سامنے آئی تو امریکہ اسے ویٹو کر دے گا۔

واضح رہے حالیہ دنوں میں اسرائیل کی طرف سے بعینہ یہ بات کہی جا رہی ہے کہ فلسطینی ریاست کا فیصلہ کسی اور کو کرنے کا حق نہیں ہے بلکہ یہ فیصلہ فریقین کے باہمی مذاکرات کے نتیجے میں ہی ہونا چاہیے۔ اب امریکہ جس کے بظاہر اسرائیل کے ساتھ تعلقات میں قدرے اختلاف کا تاثر دونوں طرف سے دیا جا رہا ہے نے اسرائیل کی بات کو بالکل اسی طرح بیان کیا ہے اور اسی طرح آگے بڑھایا ہے۔ گویا فلسطین اور فلسطینیوں کے بارے میں دونوں کی رائے میں کوئی بھی بامعنی اختلاف نہیں ہے۔

میتھیو ملر نے کہا 'امریکی وزیر خارجہ بڑی فعالیت کے ساتھ اسرائیل کے لیے سلامتی کی ضمانتیں حاصل کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ جو کہ فلسطینی ریاست کے لیے زمین پر کام کرنے کے لیے اہم ہے۔ امریکی جوبائیڈن انتظامیہ نے فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے اپنی حمایت میں اضافے کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے۔ نیز فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات پر بھی زور دیا ہے۔ تاکہ مغربی کنارے اور غزہ دونوں جگہوں پر اس کی نگرانی ممکن ہو سکے۔'

امریکہ فلسطینی اتھارٹی کی اصلاحات کو غزہ سے حماس کے خاتمے کے تناظر میں بھی بہت اہم سمجھتا ہے۔ اس بارے میں امریکہ اور اسرائیل کی رائے میں کوئی فرق نہیں ہے کہ غزہ سے حماس کا خاتمہ ہونا چاہیے اور فلسطینیوں کی مزاحمتی قوت سے اسرائیل کو کوئی خطرہ نہیں رہنا چاہیے۔

اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کئی دہائیوں سے فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت کر رہے ہیں۔ وہ آج کل دائیں بازو کی انتہا پسند اتحادی جماعتوں کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنائے ہوئے ہیں۔ اس مخلوط حکومت میں انتہا پسند جماعتوں کے نمائندے فلسطینی اتھارٹی کے انتہائی محدود اختیارات کے ساتھ بھی خوشگوار سوچ کے حامی نہیں ہیں۔

امریکی کانگریس میں طویل عرصہ پہلے کی گئی قانون سازی کے نتیجے میں ایک مکمل آزاد فلسطینی ریاست قائم ہونے کے ساتھ ہی امریکہ کو اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کے لیے فنڈز میں کٹوتی کرنا ہوگی۔ واضح رہے امریکہ نے کانگریس کے منظور کیے گئے اس قانون کے تحت 2011 میں ہی اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے 'یونیسکو' کی امداد بند کر دی تھی۔ تاہم بعدازاں جوبائیڈن انتظامیہ نے اس امداد کو یہ کہہ کر دوبارہ بحال کر دیا کہ اس کا جاری رہنا بہتر ہے۔

اقوام متحدہ میں امریکہ کے نائب نمائندہ رابرٹ ووڈ نے کہا 'اقوام متحدہ کی طرف سے فلسطینی ریاست کے تسلیم کیے جانے پر امریکی قانون کے مطابق یو این ایجنسیوں کے لیے امداد روک دی جائے گی کیونکہ ہم امریکی قانون کے پابند ہیں۔' ووڈ نے مزید کہا 'ہمیں امید ہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے ایسا نہیں کیا جائے گا لیکن اس کا انحصار اقوام متحدہ پر ہے۔ '

فلسطینی اتھارٹی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کو ایک خط بھیجا ہے۔ جس میں ان سے کہا گیا ہے کہ وہ سلامتی کونسل میں فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے دائر کردہ دیرینہ درخواست کو زیر بحث لائیں۔ جس میں فلسطینی ریاست کے قیام کے اعلان کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی کے خط میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسی ماہ اپریل سے فلسطینی ریاست کو اقوام متحدہ کی مکمل ممبرشپ دینے کا فیصلہ سلامتی کونسل کے پلیٹ فارم سے ہو۔ خیال رہے فلسطینی اتھارٹی نے یہ درخواست 2011 میں کی تھی۔ لیکن ابھی تک اس پر سلامتی کونسل نے غور نہیں کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں