گاڑی مرمت کی مسلم ملکیتی دکان پر حملہ کرنے والے امریکی شخص کو 37 سال قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک امریکی شخص جس نے ٹیکساس میں مسلمانوں کی ملکیت والی گاڑی مرمت کی دکان پر فائرنگ کر کے ایک شخص کو ہلاک اور چار کو زخمی کر دیا تھا، اسے بدھ کو نفرت پر مبنی جرائم کے الزام میں 37 سال قید کی سزا سنا دی گئی۔

2018 میں 39 سالہ انتھونی پاز ٹوریس کو 2015 میں کرسمس سے ایک دن قبل ڈیلاس میں عمر ویلز اینڈ ٹائرز پر حملے کا مجرم قرار دیا گیا تھا اور 35 سال سلاخوں کے پیچھے رہنے کی سزا سنائی گئی تھی۔

اس نے گذشتہ سال ستمبر میں وفاق کی طرف سے علیحدہ نفرت انگیز جرائم کے الزامات کا اعتراف کیا تھا اور اسے بدھ کو 37 سال کی اضافی سزا سنائی گئی تھی جس میں سے جیل میں گذرا ہوا وقت منہا کر دیا گیا۔

اٹارنی جنرل میرک گارلینڈ نے ایک بیان میں کہا، "اسلامو فوبیا یا کسی بھی قسم کے تعصب کی وجہ سے ہونے والے نفرت انگیز جرائم کا محکمۂ انصاف کی پوری طاقت سے مقابلہ کیا جائے گا۔ اس ملک میں کوئی بھی فرد خوف میں نہ رہے کہ وہ کون ہے، وہ کیسا نظر آتا ہے یا کیسے عبادت کرتا ہے۔"

ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے کہا کہ ٹوریس نے "مسلمانوں کے کاروبار کی جگہ پر متأثرین کو دانستہ نشانہ بنایا۔"

رے نے کہا، "یہ معاملہ اس بات کی کراہت انگیز مثال ہے کہ ہمارے اپنے ملک میں اسلامو فوبیا کتنا مہلک ہو سکتا ہے اور کسی بھی ایسے شخص کے لیے اس کے نتائج کتنے سنگین ہو سکتے ہیں جو نفرت انگیز تشدد کی کارروائیوں کا ارتکاب کرے۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق ٹوریس نے مسلم مخالف تبصرے کرنے کے بعد عمر ویلز اینڈ ٹائرز کے ملازمین اور صارفین پر فائرنگ کر دی جس سے ایک راہ گیر شدید زخمی ہو گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں