بائیڈن کی اہلیہ کا اسرائیل کی حمایت میں اجلاس میں شرکت سے انکار

غزہ جنگ ختم کرنے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ کی جنگ کا تنازع کانگریس اور وائٹ ہاؤس کی گلیوں سے نکل کر امریکی صدر جو بائیڈن کے کمرے تک جا پہنچا ہے۔ نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس کے اندر سے ایک مضبوط آواز غزہ میں شہریوں کی ہلاکتوں کے خاتمے پر زور دے رہی ہے اور یہ آواز امریکی صدر جو بائیڈن کی اہلیہ جل بائیڈن کی ہے۔ اخبار کے مطابق جل نے وائٹ ہاؤس کے دورے کے دوران صدر بائیڈن کے مہمانوں میں سے ایک کو مطلع کیا کہ انہوں نے حماس کے خلاف جنگ میں اسرائیل کی حمایت کی وجہ سے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں مسلم کمیونٹی کے ارکان سے ملاقات کے دوران صدر بائیڈن نے اپنی اہلیہ کی جانب سے اس پالیسی کو مسترد کرنے کے متعلق اپنے خیال کا اظہار کیا اور زور دیا کہ وہ مجھ سے غزہ میں جنگ بند کرنے پر بھی زور دیتی ہیں۔ سیاہ فام مسلم لیڈرشپ کونسل کی بانی سلیمہ سوسویل نے بیان کیا کہ خاتون اول اس بات پر زور دینے کے لیے پرعزم تھیں۔

صدر کے بیانات کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں وائٹ ہاؤس کے حکام نے کہا کہ صدر اور ان کی اہلیہ کے درمیان اس جنگ کے حوالے کوئی مفاہمت نہیں ہے۔ بائیڈن اپنی اہلیہ کی طرح شہری ہلاکتوں پر ناراض ہیں۔ حکام نے بتایا کہ خاتون اول نے اسرائیل سے حماس کے خلاف کوششیں ختم کرنے کا مطالبہ نہیں کیا۔

امریکی خاتون اول کے دفتر کی کمیونیکیشن ڈائریکٹر الزبتھ الیگزینڈر نے ایک بیان میں کہا کہ صدر بائیڈن کی طرح خاتونِ اول بھی امدادی کارکنوں پر حملوں اور غزہ میں بے گناہ جانوں کے مسلسل نقصان سے غمزدہ ہیں۔ وہ دونوں اسرائیل سے چاہتے ہیں کہ وہ عام شہریوں کی حفاظت کے لیے کچھ کرے۔

قریبی اتحادیوں کا دباؤ

بائیڈن کی اہلیہ واحد نہیں ہیں جنہوں نے امریکی صدر پر شہری ہلاکتوں کو روکنے کا زور ڈالا ہے۔ بائیڈن کے بہت سے قریبی اتحادیوں، جن میں ڈیلائیئر کے ڈیموکریٹ سینیٹر کرس کونز شامل ہیں نے بھی بائیڈن پر غزہ کے لیے انسانی امداد میں اضافے اور جنگ کے خاتمے کے لیے مزید کام کرنے کا دباؤ ڈالا ہے۔ اسرائیلیوں کی فوجی امداد پر پابندیوں کا بھی کہا گیا ہے۔

بائیڈن کو جنگ کے لیے اپنی حمایت کے باعث دیگر ڈیموکریٹس کے ساتھ ساتھ حزب اختلاف کے اندرونی پیغام رسانی کے بارے میں بڑھتی ہوئی تشویش کا بھی سامنا ہے۔ تقریباً 40 سرکاری اداروں کے اہلکاروں نے بھی اعتراضات کئے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق لیکن خاتون اول امریکی صدر کے اندرونی حلقے میں سب سے زیادہ بااثر مقام پر ہیں۔ وہ ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جو انہیں پالیسی اور سیاست کے معاملات پر واضح رائے فراہم کرتے ہیں۔

صدر بائیڈن اور ان کی اہلیہ جل بائیڈن
صدر بائیڈن اور ان کی اہلیہ جل بائیڈن

امریکی مداخلت پر خاتون اول کا موقف

خاتون اول جل بائیڈن نے اس سے قبل غیر ملکی تنازعات میں امریکی مداخلت کے معاملے پر بائیڈن کی مخالفت کی تھی۔ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ صدر جو بائیڈن کے بڑے بیٹے بیو بائیڈن 2003 میں ڈیلاویئر آرمی نیشنل گارڈ میں بھرتی ہوا تھا اور اسے 2008 میں عراق میں تعینات کیا گیا تھا۔ اس کے بعد مہلک افراتفری کے باوجود جل بائیڈن نے افغانستان سے امریکی فوجیوں کے انخلا کے لیے اپنے شوہر کی مہم کی حمایت کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں