حوثیوں کی صلاحیتوں کو تباہ کرنا انہیں راستہ بدلنے پر مجبور کر دے گا: واشنگٹن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

یمن کی صورتحال کے بارے میں امریکی اندازے اس تاثر سے بالکل مختلف ہیں جو حوثی اور ان کے رہنما یمنیوں اور دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہتے ہیں۔ امریکی عسکری ذرائع نے گزشتہ چند دنوں میں بڑے اعتماد کے ساتھ کہا ہے کہ خطے میں تعینات امریکی افواج نے خطے میں تعیناتی کا اپنا ہدف حاصل کر لیا ہے۔

حوثیوں کی صلاحیتوں میں کمی

امریکی عسکری ذرائع میں سے ایک نے العربیہ اور الحادث کو بتایا کہ آپ کو یاد رکھنا چاہیے کہ حوثی بیلسٹک میزائل اور بغیر پائلٹ کے بحری ڈرون سمیت متعدد میزائل اور ڈرون لانچ کرنے کے قابل تھے۔ اگر حوثی جو اب کر رہے ہیں اور جو وہ دو ماہ پہلے کر رہے تھے کے درمیان موازنہ کریں تو آپ واضح طور پر دیکھیں گے کہ امریکی افواج نے اپنا مقصد حاصل کر لیا ہے۔

اگرچہ اس اس میں کچھ مبالغہ آرائی یا شیخی بھگارنے کا عنصر بھی شامل ہے تاہم سامعین کے لیے اس امریکی دعوے کی حقیقت کو جھٹلانا مشکل ہے۔ کئی ہفتوں سے حوثیوں نے بحیرہ احمر یا خلیج عدن میں کوئی پیچیدہ کارروائی نہیں کی ہے اور نہ ہی انہوں نے ایلات کی بندرگاہ کی طرف میزائل اور ڈرون داغے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے اپنے میزائل حملوں کے شروع کے دنوں میں ایسا کیا تھا۔

امریکیوں کی کامیابی خاص طور پر ان کی زبردست فائر پاور اور حوثیوں کے ٹھکانوں پر ان کے بار بار حملے اور ان کے حوثی ریڈارز اور اسلحے کے ذخیروں کو تباہ کرنے کی وجہ سے ہے۔ امریکیوں کے پاس خطے میں جاسوسی کی اعلیٰ صلاحیتیں بھی موجود ہیں۔ امریکی درجنوں ڈرون اڑاتے ہیں جن میں سکیننگ اور یمن کی فضائی حدود میں نگرانی کے آلات اور حوثیوں کے زیر استعمال الیکٹرانک مواصلاتی آلات کی نگرانی کی سہولیات موجود ہوتی ہیں۔

امریکی انٹیلی جنس کا اندھا پن

یہ امریکی برتری حوثیوں کو بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں اہداف کو نشانہ بنانے کی کوشش کرنے سے تو نہیں روکتی لیکن اب وہ محدود اور یکطرفہ کارروائیوں کے ساتھ ایسا کر رہے ہیں۔ امریکی ان کے خلاف پیشگی حملوں کی ہدایت کر سکتے ہیں۔ وہ حوثیوں کی جانب سے میزائل داغے جانے سے قبل ہی پلیٹ فارم کو تباہ کرسکتے ہیں۔

امریکی حوثیوں کی حملوں کی صلاحیتوں کو تباہی کی شرح پر بات کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں اور امریکی دفاعی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے پاس اس بات کی تصدیق شدہ معلومات نہیں ہیں کہ وہ حوثیوں کی 30 فیصد یا 70 فیصد صلاحیتوں کو تباہ کرنے میں کامیاب ہیں۔ ایک مقرر نے العربیہ اور الحادث سے بات کرتے کہا کہ ہمیں شروع میں نہیں معلوم تھا کہ حوثیوں کے پاس میزائلوں، ڈرونز اور پلیٹ فارمز کے حوالے سے کیا ہے۔ امریکی یہ جانتے ہیں کہ انہوں نے اب تک کیا کیا تباہ کیا تاہم یہ نہیں جانتے کہ حوثیوں کے پاس باقی رہ جانے والی صلاحیتیں کس قدر ہیں۔

امریکی "انٹیلی جنس اندھا پن" اس حقیقت کی وجہ سے ہے کہ حوثی گذشتہ برسوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کی مدد سے اپنے ہتھیاروں کو تیار کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ انہوں نے ہتھیار بنانے اور ان ہتھیاروں کی درستی کو تیار کرنے کے لیے اپنی مقامی صلاحیتوں کا بھی استعمال کیا ہے۔

خطے میں موجود رہنے کا عزم

امریکی سرکاری ترجمان اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ امریکہ خطے میں موجود رہنے اور تجارتی جہاز رانی اور خطے میں تعینات امریکی فوجی اہلکاروں کو حوثیوں کے خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ امریکی مقررین نے العربیہ اور الحادث کو دیے گئے بیانات میں کہا ہے کہ امریکہ بین الاقوامی پانیوں میں بحری جہازوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے درکار کوشش کرنے کے لیے تیار ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے کہ وقت کتنا ہی طویل ہو ۔

امریکی کافی حد تک سمجھتے ہیں حوثی جو کچھ کر رہے ہیں وہ نہ صرف بین الاقوامی پانیوں میں جہاز رانی کے لیے خطرہ ہے بلکہ وہ یہ بھی سمجھتے ہیں کہ حوثی امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی صلاحیتوں کو ختم کر رہے ہیں۔

تاہم امریکی اس مشن کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے عزم کا اظہار کرتے ہیں۔ سرکاری ترجمانوں میں سے ایک نے العربیہ اور الحادث کو بتایا کہ اگر ان کے پاس ہتھیار ہیں تو ہمارے پاس اور بھی بہت کچھ ہے۔ ایک وقت آئے گا جب حوثیوں کو لگے گا کہ وہ اپنی دھمکیوں پر عمل کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ وہ بہت سے ہتھیاروں اور میزائلوں اور ڈرونز کو چلانے کی اپنی صلاحیت سے محروم ہو جائیں گے

حوثیوں کی مختلف حیثیت

واضح رہے امریکی حوثیوں کو مشرق وسطیٰ میں باقی ایران نواز ملیشیاؤں سے بالکل مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔ ایک مقرر نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ نے پہلے ہی ایران سے کہا تھا کہ وہ حملے بند کرنے کے لیے اپنی ملیشیاؤں سے بات کرے۔ حوثیوں کو ایران سے حمایت اور ہتھیار ملتے ہیں اور وہ ناکہ بندی کے باوجود یہ حمایت حاصل کر رہے ہیں لیکن وہ ایران کے مطالبے پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کرتے جیسا کہ دیگر ملیشیاؤں والے کرتے ہیں۔

امریکی ذرائع میں سے ایک نے کہا حوثی حزب اللہ نہیں ہیں! حوثیوں کے پاس اپنی صلاحیتیں ہیں۔ وہ دوسرے ملیشیاؤں سے بالکل مختلف طریقہ کار کے ساتھ تنازعات میں ملوث ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں