روس اور یوکرین

نیٹو کے ساتھ ہماری مقدس وابستگی ہمیں تحفظ فراہم کرتی ہے: بائیڈن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یوکرین کی جنگ پر روس کے بڑھتے ہوئے خطرے کے جلو میں نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) جمعرات کو پورے یورپ اور شمالی امریکہ میں اجتماعی دفاع کے 75 سال منا رہا ہے۔

اس تناظر میں امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعرات کو اس بات پر زور دیا کہ امریکہ کو اتحاد کے لیے اپنی "مقدس وابستگی" کو برقرار رکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے انتخابی حریف ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے میں موجود اجتماعی دفاعی شق کو نقصان پہنچایا۔

خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق بائیڈن نے ایک بیان میں کہا کہ ’’ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہم اپنے اتحادیوں کو نیٹو کے ہر انچ کے دفاع کے لیے جو مقدس عہد پیش کرتے ہیں وہ ہمیں تحفظ فراہم کرتا ہے‘‘۔

نیٹو اتحادیوں کو نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ کی وائٹ ہاؤس میں واپسی کے امکان پر تشویش بڑھ رہی ہے۔

ٹرمپ نے حال ہی میں کہا تھا کہ وہ روس کی حوصلہ افزائی کریں گے کہ وہ نیٹو کے کسی ایسے ملک پر حملہ کرے جو دفاع پر کافی پیسہ خرچ نہیں کرتا۔ جب وہ برسراقتدار تھے تو انہوں نے اس اتحاد سے دستبرداری پر غور کیا۔ ان پر الزام تھا کہ وہ دوسرے ممالک اپنی مالی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہے تھے۔

بائیڈن نے گذشتہ دو سالوں میں نیٹو کے اتحاد کی تعریف کی کیونکہ اتحاد نے روس کے "مہلک حملے" کے پیش نظر یوکرین کے لیے فوجی حمایت میں اضافہ کیا۔

انہوں نے کہا کہ یوکرین جنگ کے تناظر میں فن لینڈ اور سویڈن کے اتحاد میں شامل ہونے کے بعد یہ "پہلے سے کہیں زیادہ بڑا، مضبوط اور پرعزم" ہو گیا ہے۔

صدربائیڈن نے مزید کہا کہ "ہمارے دشمنوں نے ہمارے قابل ذکر اتحاد کو توڑنے کا منصوبہ بنایا اور ہماری جمہوریتیں برداشت کر چکی ہیں"۔

امریکہ جولائی میں واشنگٹن میں نیٹو کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک سربراہی اجلاس کی میزبانی کرنے والا ہے۔

نیٹو کے سینیر سفارت کاروں نے میدان جنگ میں روسی مسلح افواج کے بڑھتے ہوئے بہتر کنٹرول کے باوجود یوکرین میں ہی رہنے کا عہد کیا۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل جینز سٹولٹن برگ نے جمعرات کو اتحاد کے قیام کی 75 ویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب کے دوران اعلان کیا کہ امریکہ اور یورپ نیٹو کے فریم ورک کے اندر ایک ساتھ "مضبوط" ہیں۔

"مضبوط اور محفوظ"

نیٹو کے ساتھ امریکی وابستگی کے بارے میں یورپ میں بڑھتی ہوئی تشویش کے پس منظر میں بات کرتے ہوئے اسٹولٹن برگ نے کہا کہ "میں نیٹو میں امریکہ اور یورپ کے ساتھ ساتھ ہونے پر یقین رکھتا ہوں، کیونکہ ہم ایک ساتھ مضبوط اور محفوظ ہیں"۔

نیٹو ایک ایسے وقت میں اپنے قیام کی یاد منا رہا ہے جب مغربی اتحاد کو یوکرین کی جنگ جیتنے کے لیے مزید کچھ کرنے کی فوری ضرورت کا احساس دلایا جا رہا ہے نیٹو کے ارکان نے کیف کی حمایت کرتے ہوئے روس کے حملے کے بعد سے اسے دسیوں ارب ڈالر کے ہتھیار فراہم کرکے اس میں شامل ہونے کی کوشش کی ہے۔

نیٹو جس کی بنیاد امریکہ اور 11 دیگر ممالک نے سرد جنگ کے آغاز میں (سابق) سوویت یونین کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے رکھی تھی۔ سویڈن اور فن لینڈ کے حالیہ اضافے کے ساتھ اب بڑھ کر اس کے ارکان کی تعداد 32 ممالک تک پہنچ گئی ہے۔

یوکرین پر بڑے پیمانے پر روسی حملے نے اتحاد میں نئی جان ڈالی۔ مشرقی یورپ میں نیٹو اتحادیوں کو "نئی روسی جارحیت" کا خوف تھا، جب کہ مغربی فوجی اتحاد نے روسی حملے کے خلاف یوکرین کی حمایت کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں