اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت روک دی جائے: جرمن وکلاء کی عدالت میں درخواست

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے وکلاء نے جرمنی سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فروخت پر پابندی لگائی جائے۔ انسانی حقوق سے متعلق وکلاء نے بتایا ہے کہ عدالت کے سامنے یہ درخواست جمعہ کے روز دائر کی ہے۔ وکلاء کے گروپ کے مطابق وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اسرائیل کو ملنے والا اسلحہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔

اس سے قبل ہالینڈ کی ایک عدالت فیصلہ دے چکی ہے کہ اسرائیل کو امریکی ساختہ ایف 35 کے پرزہ جات برآمد نہ کیے جائیں۔ کیونکہ انہیں اس امر پر تشویش ہے کہ یہ ہتھیار اور جنگی جہاز غزہ میں شہری آبادیوں کو نشانہ بنانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

خیال رہے زیر محاصرہ غزہ میں اب تک ہزاروں فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اب تک غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 33 ہزار سے زائد لوگ قتل ہوئے ہیں۔ جن میں زیادہ تر تعداد فلسطینی بچوں اور خواتین کی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل اس امر سے انکار کرتا ہے کہ وہ جان بوجھ کر شہریوں کو ہلاک کر رہا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ حماس ہے جو شہری آبادیوں کو اپنے بچاؤ کے لیے بطور کور استعمال کرتی ہے۔ تاہم حماس بھی اسرائیل کے اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

جرمنی میں عدالت سے رجوع کرنے والی انسانی حقوق کی متعدد تنظیموں میں یورپین لیگل سپورٹ سینٹر، لاء فار فلسطین اور فلسطین انسٹی ٹیوٹ فار پبلک ڈپلومیسی شامل ہیں۔ یہ درخواست ایک انتظامی عدالت میں دائر کی گئی ہے۔ تاکہ غزہ میں فلسطبینیوں کو ہلاکتوں سے بچایا جا سکے۔

درخواست دائر کرنے والے وکلاء کے بیان میں کہا گیا ہے کہ جرمنی کی طرف سے اسرائیل کو امداد اور اسلحہ کی ترسیل ملکی قانون 'وار ویپن کنٹرول ایکٹ' کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔ درخواست میں ماہ جنوری کے دوران بین الاقوامی عدالت انصاف کے اسرائیل کے بارے میں حکم نامے کا بھی حوالہ دیا گیا ہے کہ 'اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے واقعات کو روکنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔ '

اسرائیل پر نسل کشی کا الزام 7 اکتوبر سے جاری اس جنگ کے آغاز سے ہی لگایا جا رہا ہے۔ تاہم وہ اس کا انکار کرتا ہے۔ اس بارے میں جنوبی افریقہ نے باضابطہ طور پر بین الاقوامی عدالت انصاف میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔

وکیل احمد عابد نے اس سلسلے میں جمعہ کے روز نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ' جرمنی کے اسلحہ سے متعلق ایکٹ کے تحت اسلحہ روکنے کے لیے یہ مفروضہ بھی کافی ہے کہ اسرائیل اسلحہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف کرتے ہوئے استعمال کر رہا ہے۔ تاہم توقع ہے اگلے دو سے تین ہفتوں کے دوران عدالتی فیصلہ آ جائے گا۔

سیاسی دباو

جرمنی کے حکومتی ترجمان کرسٹینے ہوفمین نے اس پر تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا وہ اس پر بات نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ یہ عدالتی معاملہ ہے۔ یہ اب عدالت پر منحصر ہے کہ وہ اسلحہ کی فراہمی کو روکتی ہے یا درخواست پر فیصلہ ملتوی کر دیتی ہے۔'

ترجمان نے البتہ رپورٹرز سے بات کرتے ہوئے یہ ضرور کہا 'وفاقی حکومت عام طور پر اسلحے کی ہر برآمد کو اپنے طور پر بھی دیکھتی ہے اور کئی پہلووں سے اسلحہ کی فراہمی کو بین الاقوامی قانون کے مطابق دیکھتی ہے۔'

بین الاقوامی قانون کے ماہرین کا کہنا ہے ' اس طرح کی قانونی کوشش سے نہیں لگتا کہ اسلحہ کی فراہمی کو زبردستی روکا جاسکے گا۔ مگر شواہد پیش کیے جانے کی صورت میں عدالت جرمن حکومت کو چیزوں کا دوبارہ جائزہ لینے کے لیے کہہ سکتی ہے۔'

' بون انٹر نیشنل سینٹر فار کانفلکٹس' میں سینئیر ریسرچر کے طور پر کام کرنے والے میکس مٹسچلر نے کہا ' اس مقدمے کے نتیجے میں جرمنی کی حکومت پر سیاسی دباؤ ضرور بڑ سکتا ہے۔ کہ وہ اسلحے کی فراہمی کے لیے مزید شفافیت کو یقینی بنائے اور قانون کی عملداری کو نظر انداز نہ ہونے دے۔

معروف قانون دان ہوگلر روتباؤر نے اس بارے میں اپنی رائے دیتے ہوئے کہا ' اگر انسانی حقوق کے گروپ ہیگ میں قائم بین الاقوامی عدالت انصاف سے رجوع کرتے تو اس امر کا زیادہ امکان تھا کہ دائر کردہ درخواست قبول ہو جاتی۔ جیسا کہ 2010 میں میکسیکو کے خلاف ایک درخواست پر اسلحہ فراہی کے حوالے سے فیصلہ آیا تھا۔ '

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جرمنی کے قانون میں کچھ کمی ہے۔ اس قانون کے مطابق صرف براہ راست متاثر ہونے والا فریق اس طرح کا عدالت میں مقدمہ کرے تو اسے ریلیف مل سکتا ہے۔' ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ وہ غزہ کے فلسطینیوں کی طرف سے نمائندگی کر رہے ہیں۔

واضح رہے اب تک اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں غزہ کے 33 ہزار سے زائد رہنے والے ہلاک ہوچکے ہیں۔ ان میں زیادہ تر تعداد فلسطینی عورتوں اور بچوں کی ہے۔ جبکہ چھ ماہ سے جاری جنگ میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 75750 ہے۔

اسرائیلی فوج کی بمباری اور فائرنگ سمیت ڈرون حملوں کے نتیجے میں اب تک تقریبا دو سو امدادی کارکنوں کو بھی قتل کیا جا چکا ہے۔ حتیٰ کہ امدادی سامان لینے کے لیے جمع ہونے والے بھوکے اور قحط کی زد میں آئے ہوئے فلسطینیوں کو بھی سینکڑوں کی تعداد میں ہلاک کیا جا چکا ہے۔

یہ اس کے باوجود کیا جا رہا ہے کہ اقوام متحدہ کئی بار باور کراچکا ہے کہ غزہ میں قحط کا آغاز ہو چکا ہے اور اگر ہنگامی بنیادوں پر خوراک کی ترسیل کو تیز نہ کیا گیا تو کسی بڑے انسانی المیے کا خطرہ ہے۔ لیکن اس امر کا اثر لینے کے بجائے اسرائیل غزہ کے شہر رفح میں ایک نئی جنگ شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں