مشرق وسطیٰ

غفلت یا مبالغہ آرائی، بائیڈن کو اسرائیل کے حوالے سے دوہری تنقید کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

امریکی صدرجو بائیڈن کی اس ہفتے اسرائیل سے غزہ میں انسانی حالات کو بہتر بنانے کی درخواست اور جنگ بندی کے لیے ان کی حمایت پر ان کے سیاسی حلیفوں کی طرف سے شدید تنقید کا باعث بنی جن کا کہنا ہے کہ صدر غزہ میں جنگ روکنے کے لیے کافی کوشش نہیں کر رہے۔ دوسری طرف بائیڈن کے سیاسی مخالفین ان پر الزام لگاتے ہیں کہ وہ اسرائیل پر زیادہ دباؤ ڈال رہے ہیں۔

جمعرات کو اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ ایک فون کال میں بائیڈن نے کہا کہ اسرائیل کی حمایت غزہ میں امداد کی فراہمی اور امدادی کارکنوں اور عام شہریوں کے تحفظ کی شرط پر ہوگی۔

یہ پہلا موقع تھا جب بائیڈن جیسے ایک کٹر اسرائیل نواز ڈیموکریٹ نے اسرائیلی فوجی رویے کو متاثر کرنے کے لیے امریکی امداد کا فائدہ اٹھانے کی بات تھوڑا مختلف لہجے میں کی۔

صدر پر اپنی جماعت کے بائیں بازو کی طرف سے شدید دباؤ ہے کہ وہ اسرائیلی حملوں کی وجہ سے فلسطینی شہریوں کو پہنچنے والی انسانی تباہی سے نمٹنے کے لیے زیادہ سے زیادہ کوششیں کریں۔

ڈیموکریٹک سینیٹر کرس وان ہولن نے ’رائیٹرز‘ کو بتایا کہ " ہمارے پاس ایسا نمونہ نہیں ہونا چاہئے جس میں نیتن یاہو حکومت امریکہ کے صدر کو نظر انداز کرے اور ہم 2,000 پاؤنڈ وزنی مزید بم بھیجیں"۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کے رکن وان ہولن نے کہا کہ بائیڈن کو اس بارے میں مزید "عوامی طور پر کھل کر" بات کرنی چاہیے کہ امریکہ غزہ میں مہم سے کیا توقع رکھتا ہے اور سلامتی کونسل میں اسرائیل پر تنقیدی قراردادیں محض ویٹو کرنے کے بجائے ایک نیا طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔

بائیں بازو کے دوسرے سیاست دانوں نے بھی ایسی ہی شکایات کا اظہار کیا۔

ڈیموکریٹک کے اتحادی آزاد سینیٹر برنی سینڈر نے ایک پوڈ کاسٹ میں کہا کہ ’یہ کیا تماشا ہے کہ ایک دن صدر نیتن یاہو سے کم 'ناراض' ہیں اور اگلے دن وہ 'بہت ناراض' ہیں۔ صدر کھل کر اسرائیل کے حوالے سے ٹھوس پالیسی کیوں نہیں بناتے"۔

سینڈرز نے مزید کہا کہ "آپ غزہ کی انسانی صورتحال کے بارے میں اپنے خدشات پر بات جاری نہیں رکھ سکتے۔ پھر نیتن یاہو کو مزید 10 ارب ڈالر یا اس سے زیادہ بم نہیں دے سکتے۔ ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ منافقت ہے"۔

ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ فوری طور پر جنگ بندی ہونی چاہیے۔ مجھے نہیں لگتا کہ غزہ میں ایک نئی کراسنگ کھولنا کافی ہے"۔

اسرائیل نے کہا ہے کہ اس نے شمالی غزہ میں ایریز کراسنگ کو دوبارہ کھولنے اور غزہ میں انسانی امداد کی فراہمی کو بڑھانے کے امریکی مطالبات کے تناظر میں جنوبی اسرائیل میں اشدود بندرگاہ کے عارضی استعمال پر اتفاق کیا ہے۔

مرفی نے بائیڈن کی حکمت عملی پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ "میرے خیال میں اب وقت آگیا ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ انتظامیہ کی طرف سے یہ خاموش اور مستقل دباؤ ہمارے سکیورٹی مفادات کو آگے بڑھانے کے لیے کافی نہیں ہو رہا ہے"۔

ریپبلکن اور قیدیوں کے اہل خانہ

اگرچہ ڈیموکریٹس کی ایک بڑی تعداد نے بائیڈن کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ وہ صرف اسرائیل سے مراعات دینے کے کہنے سے آگے نہیں بڑھ رہے ہیں، لیکن کچھ ریپبلکن جو عام طور پر اسرائیل کو فوجی امداد فراہم کرنے کی حمایت کرتے ہیں امریکی صدر پر اپنی پوزیشن تبدیل کرنے پر تنقید کرتے ہیں۔

ریپبلکن سینیٹر ٹام کاٹن نے کہا کہ بائیڈن نے نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوسری بار جیتنے کے امکانات بڑھانے کے لیے اپنی پالیسی تبدیل کی۔ کاٹن نے جمعہ کو ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر مزید کہا کہ "مشی گن میں اپنی حمایت کی درجہ بندی بڑھانے کے لیے جو بائیڈن نے حماس کی مذاکراتی پوزیشن کو مضبوط کیا۔ انہوں نے دراصل حماس کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ قیدیوں کو رہا نہ کرے، یہ ایک شرمناک بات ہے"۔

ریپبلکن رکن برائن مست جو ایوان کی خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن ہیں نے بائیڈن پر الزام لگایا کہ "اسرائیل سے دہشت گردوں کے ساتھ جنگ بندی کو قبول کرنے کا مطالبہ کر کے بائیں بازو کے پاگلوں کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے"۔ انہوں نے ایک بیان میں مزید کہا کہ اس سے لوگوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ جاتی ہیں‘‘۔

سات اکتوبر کو حماس کی طرف سے حراست میں لیے گئے قیدیوں کے اہل خانہ نے کہا کہ ان پیاروں کو رہا کیے بغیر جنگ بندی پر زور دینا خطرناک ہو سکتا ہے۔

عومیر نیوٹرا کی والدہ اورنا نیوٹرا نے جمعہ کو نیویارک شہر میں قیدیوں کے دیگر اہل خانہ کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ "ان تمام لوگوں کے لیے جو قیدیوں کو رہا کیے بغیر فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر رہے ہیں آپ کا اخلاقی کمپاس کہاں ہے؟ بغیر جنگ بندی کے معاہدہ، یا جزوی معاہدہ ہمارے بیٹے اور دیگر قیدیوں کے لیے سزائےموت کے مترادف ہو سکتا ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں