جرمنی کی فوج نے بحیرہ احمر میں حوثی میزائل حملے کو روک دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین کے نیول مشن کے تحت جنوبی بحیرہ احمر میں جرمن فوج نے حوثی میزائل حملے کو روک کر بحری جہازوں کو بچا لیا ہے۔ علاقے میں موجود ایک جرمن فریگیٹ کی طرف سے جاری کیے گئے پریس ریلیز کے مطابق میزائل حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقے سے داغا گیا تھا۔

میزائل روکنے کی کارروائی جرمنی کی فریگیٹ ہیسن کی طرف سے کی گئی۔ جس کے نتیجے میں بحری تجارتی جہازوں کو اس میزائل حملے میں کسی بھی قسم کے نقصان سے بچانے میں جرمن فریگیٹ کامیاب رہی۔

واضح رہے بحیرہ احمر میں ' اسپائیڈز ' ماہ فروری میں ' لانچ' کی گئی تھی۔ تاکہ بحری تجارتی راستوں پر حوثیوں کے ہر طرح کے میزائل حملوں اور ڈرون حملوں کو روکا جا سکے۔

برطانوی ' میری ٹائم سیکیورٹی کی کمپنی ' ایمبری' نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ اسے اطلاعات ملیں کہ یمن کی جنوب مغربی بندر گاہ حدیدہ کے نزدیک سے 61 سمندری میل کے فاصلے پر ایک کشتی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔

علاوہ ازیں 'یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آرگنائزیشن ' ( یو کے ایم ٹی او ) کے مطابق ایک جہاز کے ایک کپتان نے اعلان کیا اس کے جہاز کو دو میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا ہے تاہم جہاز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا ہے۔ تاہم ' یو کے ایم ٹی او' نے اس نشانہ بنائے جانے والے جہاز کی شناخت کے بارے میں کچھ نہیں بتایا ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ حوثی پچھلے کئی مہینوں سے بحیرہ احمر کے علاقے میں نشانہ بنا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے یہ حملے غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ کے خلاف فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے ہیں۔

'یو کے ایم ٹی او' کے مطابق ایک میزائل کو اتحادی فورسز روک نہیں سکیں۔ جو تجارتی جہاز کو نشانہ بنانے کے لیے فائر کیا گیا تھا۔ دوسرا میزائل جہاز سے دور پانیوں میں جا کر گرا۔ تاہم کسی بھی قسم کا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے۔ یاد رہے حوثیوں کے ان حملوں کے نتیجے میں بحیرہ احمر میں تجارتی آمد و رفت اور نقل و حمل بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں