غزہ پر اختلافات کے جلو میں اسرائیلی اپوزیشن لیڈر کا دورہ واشنگٹن

یائر لاپڈ سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن، مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان اور دیگر حکام سے ملاقات کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

غزہ میں اسرائیل کی طرف سے جنگ کے انتظام کے حوالے سے دونوں ملکوں کی حکومتوں کے درمیان بڑھتے ہوئے تناؤ کے تناظر اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائر لاپڈ سینئر حکام سے بات چیت کے لیے واشنگٹن چلے گئے۔ ان کی یش عتید پارٹی نے ’’ ایکس‘‘ پر بتایا کہ یائر لاپڈ سیکرٹری آف سٹیٹ انٹونی بلنکن، مشیر قومی سلامتی جیک سلیوان اور دیگر حکام سے ملاقات کریں گے۔

امریکی صدر جو بائیڈن تنقید کے باوجود چھ ماہ کی تباہ کن جنگ میں اسرائیل کے ساتھ کھڑے رہے لیکن اس ہفتے کے شروع میں اسرائیلی فضائی حملے میں سات امدادی کارکنوں کی ہلاکت نے واشنگٹن میں مایوسی کو بڑھا دیا ہے۔ جمعرات کو اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے ساتھ 30 منٹ کی تناؤ والی فون کال میں بائیڈن نے کہا تھا کہ امدادی کارکنوں کا قتل "ناقابل قبول" ہے ۔ انہوں نے بائیڈن سے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق دونوں عہدیداروں نے شہریوں کو پہنچنے والے نقصان، انسانی تکالیف اور امدادی کارکنوں کی حفاظت کے لیے مخصوص، ٹھوس اور قابل پیمائش اقدامات کے سلسلے کا اعلان اور ان پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔

بائیڈن نے واضح کیا کہ غزہ کے حوالے سے امریکی پالیسی کا تعین اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی فوری کارروائی کے ہمارے جائزے سے کیا جائے گا۔ امدادی کارکنوں کے مارے جانے سے قبل ہی واشنگٹن نے نیتن یاہو کے رفح پر زمینی حملہ کرنے کے منصوبے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ غزہ کی پٹی کے اس علاقے میں 15 لاکھ بے گھر فلسطینیوں نے پناہ لے رکھی ہے۔

اپنے دورے کے دوران اسرائیلی اپوزیشن لیڈر یائر لاپڈ ڈیموکریٹک سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر سے بھی ملاقات کریں گے۔ چک شومر نے گزشتہ ماہ اسرائیل میں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ کردیا تھا۔ انہوں نے نیتن یاھو کو امن کی راہ میں بڑی رکاوٹوں میں سے ایک قرار دیا تھا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نے چک شومر کے بیانات کو مکمل طور پر نامناسب دیا تھا اور کہا تھا کہ ہمارا ملک بنانا ریپبلک نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں