’حوثیوں کا قبضہ ختم کرنے کے لیے فوجی مدد کی ضرورت ہے‘

یمنی بحیرہ احمر کے بحران سے متاثر ہوئے ہیں اور وہ ایران کی سازش کی قیمت چکا رہے ہیں:یمنی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمنی صدر رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ امریکہ اور مغرب اس بات پر قائل ہیں کہ یمن میں امن تک پہنچنے کے لیے حوثیوں کو عسکری طور پر شکست دی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یمنی بحیرہ احمر کے بحران سے متاثر ہوئے ہیں اور وہ ایران کی سازش کی قیمت چکا رہے ہیں۔

العربیہ/الحدث چینلز کے نامہ نگار کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ"ہمیں حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کی بحالی کے لیے فوجی مدد کی ضرورت ہے"۔

العلیمی نے مزید کہا کہ یمنی حکومت کمزوری اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، جس کی عکاسی اندرونی اور علاقائی طور پر اس کے تعلقات سے ہوتی ہے۔

انہوں نےکہا کہ "صدارتی کونسل اندرونی تنازعات کو روکنے اور عدن میں استحکام کو معمول پر لانے میں کامیاب رہی ہے"۔

یمنی صدرنے کہا کہ حوثیوں کا مقابلہ کرنا اور ریاست کی بحالی قومی فوج اور دیگر اداروں کی تشکیل ان کا ہدف ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ "حوثی بحیرہ احمر کے بحران سے متعلق ایران کی ہدایات پر عمل درآمد کر رہے ہیں اور امن کی کوششوں میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے بحیرہ احمر کے تحفظ کے لیے اتحاد میں شامل ہونے کی امریکی درخواست کو مسترد کر دیا۔

قابل ذکر ہے کہ 19 نومبر سے حوثی گروپ نے بحیرہ احمر اور بحیرہ عرب میں 73 سے زائد بحری جہازوں کو ڈرونز اور میزائلوں سے نشانہ بناچکا ہے۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی حمایت میں اسرائیلی بحری جہازوں اور اسرائیل کی بندرگاہوں کی طرف جانے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں