فلسطین اسرائیل تنازع

ترکیہ نے اسرائیل کو اپنی برآمدات کیوں محدود کیں؟ماہرین کیا کہتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ترکیہ کی جانب سے منگل کو اسرائیل کو برآمدات پر پابندی لگانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ جب تک تل ابیب غزہ کی پٹی میں فوری جنگ بندی کا اعلان نہیں کر دیتا اس وقت تک برآمدات روکی جائیں گے۔ سب سے اہم سوال ترکیہ کی وزارت تجارت کی طرف سے جاری کردہ اس فیصلے کی وجوہات کے گرد گھومتا ہے۔

اگرچہ ترکیہ کی تیل کو برآمدات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ابیب گذشتہ چھ ماہ سے غزہ پر جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔

انقرہ نے جن ترک برآمدات پر پابندی کا اعلان کیا ہے ان میں کل 9 اپریل سے اب تک 54 مصنوعات شامل ہیں جن میں ہوا بازی کا ایندھن، تعمیراتی لوہا، فلیٹ اسٹیل، ماربل اور سیرامکس شامل ہیں اور یہ مواد اسرائیل بستیوں کی تعمیر میں استعمال کرتا ہے۔

باخبر ترک ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مطلب اسرائیل کو "ترک اشیائے خوردونوش کی برآمد روکنا" نہیں ہے۔ اسی طرح کپڑے اور دیگر مواد کمپنیوں کے ذریعے تل ابیب کو برآمد کیا جاتا ہے۔

معروف ترک ماہراقتصادیات کنیت اکمان نے کہا کہ "حکمران جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو یہ فیصلہ اپوزیشن جماعتوں خاص طور پر اسلام پسندوں جن میں نئی ویلفیئر پارٹی کی طرف سے دباؤ کے پس منظر میں لینے پر مجبور کیا گیا تھا۔

انہوں نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو مزید کہا کہ "جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کو حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے شدید اور فیصلہ کن تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں حکومت پرغزہ جنگ کے حوالے سے اختیار کردہ موقف کو منافقت قرار دیا۔

اکمان نے مزید کہا کہ "اس پالیسی نے جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کو نقصان پہنچایا۔ اگرچہ ’آق‘ پارٹی کی حکومت اسرائیل کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کرنے سے انکار کرتی ہے مگر لیکن کچھ صحافیوں نے ان تعلقات کو ثابت کیا اور اس وجہ سے حکمران جماعت اپنے حامیوں کے سامنے شرمندہ ہوئی اور اسےبرآمدات پابندی کا فیصلہ جاری کرنے پر مجبور ہونا پڑا۔

ترک ماہر کے مطابق اس "پابندی" کو اسرائیل کو ترکیہ کی برآمدات پر "پابندی" نہیں سمجھا جاتا۔ انہوں نے اس حوالے سے یہ بھی کہا کہ ’’مجھے نہیں لگتا کہ ترکیہ اسرائیل کو برآمدات کو نمایاں طور پر روک دے گا۔‘‘

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں