فرانس میں چاقو سےحملے کے واقعے میں افغان تارک وطن ملوث،واقعے کا محرک کیا تھا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس میں چاقو کے حملے میں ایک شخص کی ہلاکت کے واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔ اب تک کی تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ یہ دہشت گردی کا واقعہ نہیں البتہ حملے میں ملوث افغان شہری نے شراب پینے کے مبینہ الزام میں دو الجزائریوں کو نشانہ بنایا۔

فرانسیسی شہر بورڈو کے پبلک پراسیکیوٹر نے اعلان کیا ہے کہ افغان تارک وطن جس نے بدھ کی شام پولیس کی گولی سے ایک شخص کو ہلاک اور دوسرے کو زخمی کر دیا تھا عید کے پہلے دن دو الجزائری تارکین وطن پر شراب پینے کا الزام لگا کران پر حملہ کیا۔

اس نے پہلے مکے مارے

عینی شاہدین سے جمع کی گئی شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ چاقو سے حملے کے مرتکب شخص نے ابتدائی طور پر شمال مشرقی الجزائر کے گاؤس سے تعلق رکھنے والے دو افراد کو "شراب پینے سے متعلق وجوہات کی بناء پر" تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس نے پہلے انہیں "مکے مارے"۔

بورڈو شہر میں جمہوریہ کے پبلک پراسیکیوٹر فریڈرک پورٹوری نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ دونوں افراد نے "اپنے حملہ آور کی طرف (مشروبات کے ڈبے) پھینکے۔ اس کے بعد مشتبہ شخص چاقو لے کر واپس آیا اور ان پر وار کرنے لگا"۔

دہشت گردی خار از امکان

انہوں نے زور دیا کہ "ایسا کوئی عنصر نہیں ہے جو دہشت گردانہ حملے کی نشاندہی کرتا ہو۔"

پناہ گزینوں کے یورپی ڈیٹا بیس کے مطابق حملے کا مرتکب ایک 25 سالہ افغان تھا۔ فرانسیسی عدلیہ کے مطابق اس کا قبل ازیں عید الفطر کے موقعے پر دیگر افراد سے تصادم ہوا تھا۔

"اپنا دفاع"

اس واقعے کی تفتیش کا آغاز کیا گیا۔ اس کیس کو قتل اوراقدام قتل کی دفعات کے تحت دیکھا جا رہا ہے۔ دوسرا ان حالات کی تحقیقات کے لیے ہے جن کے دوران حملہ آور پولیس کے ہاتھوں مارا گیا۔ پبلک پراسیکیوٹر کے مطابق ابتدائی شواہد سے پتا چلتا ہے کہ واقعے کے دوران پولیس افسران کے اپنے دفاع کے جائز حق کا استعمال کیا گیا۔

مقتول کی عمر 37 سال تھی اور وہ چاقو کے نو زخموں کے نتیجے میں ہلاک ہوگیا۔ان میں سے چار زخم سینے کے علاقے میں تھے۔ زخمی شخص کی عمر 26 سال ہے، اسے تین گولیاں لگیں تاہم اس کی جان کو کوئی خطرہ نہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں