اسرائیل سے دوری ورنہ حملے کے لیے تیار رہو: ایران کی امریکہ کو تنبیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

تین امریکی حکام نے بتایا ہے کہ ایران نے اس ہفتے کے شروع میں کئی عرب ملکوں کے ذریعے بائیڈن انتظامیہ کو ایک پیغام بھیجا ہے جس میں اس نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان لڑائی میں امریکہ کی شمولیت کی صورت میں خطے میں امریکی افواج پر حملہ کردیا جائے گا۔

ویب سائٹ ’’ایکسیوس‘‘ کے مطابق تین امریکی عہدیداروں نے کہا ہے کہ ایرانیوں نے حالیہ دنوں میں کئی عرب حکومتوں کو مطلع کیا ہے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اس اسرائیلی حملے کا ذمہ دار ہے جس کی وجہ سے دمشق میں ایرانی جنرل جاں بحق ہوا۔

ایران نے پیغام دیا کہ اگر اسرائیل پر ایرانی حملے کے بعد امریکہ نے مداخلت کی تو خطے میں امریکی اڈوں پر حملہ کیا جائے گا۔ ہم ان قوتوں پر حملہ کریں گے جو ہم پر حملہ کرتی ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ ایرانی پیغام یہ تھا کہ ہم ان قوتوں پر حملہ کریں گے جو ہم پر حملہ کرتی ہیں۔ لہذا ہمارے ساتھ نہ الجھیں تو ہم آپ کے ساتھ گڑبڑ نہیں کریں گے۔

ایک امریکی عہیدار نے وضاحت کی کہ کئی عرب ملکوں کے ذریعے موصول ہونے والے پیغام سے یہ واضح نہیں کیا گیا کہ آیا ایرانی امریکی افواج پر حملہ کرنے کی اس صورت دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر اس نے ایرانی میزائلوں کو روکنے میں اسرائیل کی مدد کی یا یہ دھمکی اس صورت میں ہے کہ امریکی اسرائیلی جوابی کارروائی میں حصہ لیں۔

امریکی عہدیدار کے مطابق امریکی انٹیلی جنس کمیونٹی کا عمومی اندازہ یہ ہے کہ ایرانی اس وقت تک امریکی افواج پر حملہ نہیں کر سکتے جب تک امریکہ جوابی کارروائی میں اسرائیل کا ساتھ نہیں دیتا۔

درست پیغام

دو امریکی عہدیداروں نے کہا کہ ان کالوں میں ایرانی پیغام زیادہ درست تھا اور ان میں اشارہ تھا کہ ایرانی ایک محدود ردعمل کا ہدف رکھتے ہیں جو علاقائی کشیدگی کا باعث نہ بنے۔ ایک اور امریکی عہدیدار نے بتایا کہ امریکہ ایران کے ساتھ سرکاری سوئس کمیونیکیشن چینل کے ذریعے براہ راست رابطہ کرتا ہے اور ایران نے اس چینل کے ذریعے دھمکیاں نہیں بھیجی ہیں۔

دریں اثنا ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ امریکی حکام علاقائی شراکت داروں کے ساتھ رابطے کر رہے ہیں تاکہ ایران کو پیغامات بھیجنے کی کوششوں پر بات چیت کی جا سکے تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔ وہ اسرائیل کے ساتھ بھی رابطے میں ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اپنے دفاع کے قابل ہیں اور ساتھ ہی ساتھ کشیدگی کو بھی بڑھنے سے روک رہے ہیں۔

امریکہ اسرائیل روابط

امریکی اور اسرائیلی حکام نے کہا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ کے کمانڈر جنرل مائیکل "ایرک" کوریلا اسرائیل میں ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ایرانی حملے سے پہلے امریکہ اسرائیل دفاعی کوششوں کو مربوط کر سکے۔ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ بائیڈن انتظامیہ نے حالیہ دنوں میں اسرائیل سے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف کسی بھی اسرائیلی جوابی کارروائی کے بارے میں امریکہ کو پیشگی مطلع کرے اور مشاورت کرے۔ دوسری طرف ایران دوسرے مواصلاتی چینلز کے ذریعے ایک مختلف پیغام بھیج رہا ہے۔ برطانیہ، آسٹریلیا اور جرمنی کے وزرائے خارجہ اور ان کے ایرانی ہم منصب کے درمیان جمعرات کو ہونے والی ملاقاتیں ہوئی ہیں۔

ایرانی ردعمل کی توقع

امریکہ اور اسرائیل گذشتہ ہفتے دمشق میں اسرائیل کے فضائی حملے میں ایک سینیئر ایرانی جنرل کے جاں بحق ہونے کے بعد اسرائیل کیخلاف ایران کے جوابی حملے کی توقع کر رہے ہیں۔ ایرانی سپریم لیڈر نے اسرائیل کے خلاف "سزا" کی دھمکی دی ہے تاہم ایران نے نجی چینلز کے ذریعے عندیہ دیا ہے کہ یہ رد عمل محدود رہے گا۔

اسرائیل اور امریکہ کا خیال ہے کہ ایرانی حملے میں بیلسٹک میزائل، کروز میزائل اور ایران سے اسرائیلی سرزمین پر حملہ کرنے والے ڈرون شامل ہوں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں