اسرائیل پر ممکنہ ایرانی حملہ، خطے میں امریکی کمک کی آمد جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یکم اپریل کو دمشق میں ایرانی قونصل خانے پر اسرائیلی بمباری کے ایرانی ردعمل کے خدشات کے دوران امریکہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں کمک بھیج رہا ہے۔ امریکہ کے مطابق یہ خدشہ بڑھ گیا ہے کہ تہران جلد ہی اسرائیل پر حملہ کر دے گا۔

واشنگٹن میں ایک امریکی دفاعی اہلکار نے وضاحت کی کہ ہم علاقائی ڈیٹرنس کی کوششوں کو مضبوط بنانے اور امریکی افواج کے تحفظ کو بڑھانے کے لیے خطے میں اضافی وسائل بھیج رہے ہیں۔

امریکی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے چیئرمین جنرل چارلس براؤن نے کہا ہے کہ ان کا ملک توسیع شدہ جنگ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے کام کر رہا ہے۔ ساتھ ہی خطے میں تمام امریکی افواج کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں کسی بھی ممکنہ پیش رفت کے حوالے سے اپنی تیاری کو بہتر کر رہے ہیں۔

دو امریکی حکام نے جمعہ کو کہا تھا کہ امکان ہے کہ تہران آج ہی اسرائیل پر ایک بڑا حملہ کردے گا۔ اس حملے میں ایران اسرائیل کے اندر فوجی اہداف کیخلاف 100 سے زیادہ ڈرونز اور درجنوں میزائل استعمال کر سکتا ہے۔

دونوں عہدیداروں نے کہا اسرائیلیوں کے لیے اس سائز کے حملے کا مقابلہ کرنا مشکل ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران بڑے پیمانے پر حملے سے بچنے کے لیے چھوٹے پیمانے پر بھی حملہ کر سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں