حماس اور تحریک اسلامی جہاد پر امریکی اور یورپی پابندیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکہ اور یورپی یونین نے جمعہ کو حماس اور تحریک اسلامی جہاد پر الگ الگ پابندیاں عائد کر دی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ نے کہا ہے کہ امریکہ نے تحریک حماس کے ترجمان اور تحریک کے ڈرون یونٹ کے رہنماؤں پر پابندیاں عائد کی ہیں۔

یورپی یونین نے حماس کے عسکری ونگز اور تحریک اسلامی جہاد پر 7 اکتوبر کو اسرائیل پر حملے کے دوران جنسی تشدد کے دعوؤں کے پس منظر میں پابندیاں عائد کی ہیں۔ یورپی یونین نے کہا ہے کہ یہ دونوں فلسطینی دھڑے، جو پہلے ہی یورپی یونین کی طرف سے "دہشت گرد" کے طور پر رینک کی گئی تنظیموں کی فہرست میں شامل ہیں، ایک منظم طریقے سے تشدد اور صنفی بنیادوں پر تشدد کی کارروائیوں کا ارتکاب کر چکے ہیں۔ یہ دھڑے اس تشدد کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر ا ستعمال کرتے ہیں۔

امریکی برطانوی پابندیاں

سات اکتوبر کو جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکہ اور برطانیہ نے ایسے عہدیداروں پر پابندیاں بھی عائد کی ہیں جنہوں نے حماس کے ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے اور بیرون ملک حماس کے مفادات کے حصول کے لیے اس کے مالی معاملات کو سنبھالنے میں بھی مدد کی ہے۔

پابندیوں کا نشانہ بننے والے افراد میں ایران میں تحریک اسلامی جہاد کے نمائندے ناصر ابو شریف اور رہنما اکرم العجوری کے علاوہ نبیل شومان بینکنگ کمپنی بھی شامل ہے جو لبنان میں واقع ہے۔ برطانوی پابندیوں میں حماس کے 4 سینئر رہنماؤں اور دو مالیاتی اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں