’سعودی معاشرے میں عید کا اہتمام پیچیدہ ہو گیا ہے‘

عید کے حوالے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے لیے رائے عامہ کا جائزہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کے نیشنل سینٹر فار پبلک اوپینین پولز کے جنرل سپروائزر عبدالسلام الوائل نے انکشاف کیا ہے کہ سعودی معاشرہ اس وقت عید کے دن گذارنے کے طریقہ کار کے حوالے سے بہت سی تبدیلیوں سے گذر رہا ہے۔ ساٹھ سال پہلے کی عید کی مصروفیات کے مقابلے میں اب بہت کچھ بدل گیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالسلام الوائل نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو خصوصی بیان میں وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’سعودی معاشرے کی تشکیل اس وقت سابقہ معاشرے کے مقابلے میں زیادہ پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اس وقت معاشرہ سوشل میڈیا کے علاوہ خاندانوں کے درمیان رابطے کے مواقع زیادہ آسانی سے فراہم کرنے لگا ہے اور اس طرح خاندانی ملاقاتوں کی حقیقت کو پہلے سے زیادہ غالب کر دیا ہے۔

یہاں نیشنل سینٹر فار پبلک اوپینین پولز کے جنرل سپروائزر الوائل ان نمبروں کا حوالہ دیتے ہیں جو ان کے مذکورہ بالا خیال کی تائید کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ موجودہ عید کے سیزن کے دوران ہم نے ان شہریوں کے تناسب میں اضافہ دیکھا جنہوں نے اپنے بڑے خاندان جیسے کہ خالہ اور ماموں سے ملاقاتوں کا زیادہ اہتمام پایا۔

اس سال 2024ء میں ان کی تعداد تقریباً 41. فی صد تک پہنچ گئی جو گزشتہ سال 2023ء تقریباً 36 فیصد تھی۔

عبدالسلام الوائل نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں عید کی تقریبات موجودہ دور کے معاشرے کی نسبت آسان ہوتی تھیں۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سعودی خاندان صرف عید کی صبح ہی مناتے تھے اور کوئی قید نہیں ہوتی تھی۔ اس کے بعد تقریبات یا خاندانی ملاقاتیں مختصر ہوتیں۔ تاہم اس وقت قابل ذکر چیزیں رونما ہوئی ہیں جنہوں نے عید کی تقریبات کا تصور ہی بدل دیا ہے کیونکہ خاندانوں نے کئی دنوں سے ملاقاتیں اور تقریبات کو دہرانا شروع کر دیا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ عید کی تنظیم بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ سماجی ڈھانچے اور پیچیدگی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے اور اس کے متعدد پہلو ہیں۔

اپنے وژن کے تناظر میں انہوں نے کہا کہ "مرکز نے سروے کیا جو اس کا سالانہ معمول ہے۔ تقریباً 842 شرکاء سے عید کے دن گذارنے کے بارے میں شہریوں کی رائے لی گئی، جن میں سے مردوں کا تناسب 64 فیصد ہے، جب کہ خواتین کا تقریباً 36 فی صد تھا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جس گروپ نے "عید کی صبح ان کے ساتھ گذارنے کو ترجیح دی، ان کے چھوٹے خاندانوں، جیسے والدین، بیوی، بچے، بھائی اور بہن میں کمی دیکھی گئی۔

گذشتہ سال 2023ء میں چھوٹے خاندانوں کی ملاقاتیں تقریباً 56 فیصد تھیں اور اس سال سروسے پتا چلا کہ یہ تناسب تقریباً 51 فیصد ہے۔

نیشنل سینٹر فار پبلک اوپینین پولز کے جنرل سپروائزر عبدالسلام الوائل نے کہا کہ "اس سال کے سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2 فیصد سعودیوں نے عید کی نماز کے فوراً بعد نیند کا سہارا لیا تاکہ ان کی نیند کا یہ تناسب متاثر نہ ہو۔

گذشتہ سال 2023ء کے مقابلے میں یہ تعداد کم ہے کیونکہ پچھلے برس عید پر سونے والوں کی تعداد چار فی صد تھی۔ تعداد عیدجو کہ 4 فیصد تک پہنچ گئی ہے جبکہ عید کے دوران کام کی مسلسل رفتار کے نتیجے میں عید الفطر کو کام پر گزارنے والے سعودیوں کی شرح 2024 کے دوران 6 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ سال 2023 کے مقابلے میں، جس میں کام پر عید گزارنے والوں کی شرح 4 فیصد تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں