امریکہ نے اسرائیل پر ایرانی حملے کا مقابلہ کرنے میں کس طرح مدد کی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ہفتے کی رات سینکڑوں ڈرونز اور میزائلوں کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل پر غیر معمولی ایرانی حملہ دو ہفتوں سے جاری کشیدگی کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے۔ اس دوران واشنگٹن نے خطے کی صورتحال کو خراب ہونے سے روکنے کے لیے بھرپور کوششیں کیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام کے اعلان کے مطابق امریکہ اور یورپی ڈسٹرائر کی مدد سے 80 سے زیادہ ڈرونز اور کم از کم چھ بیلسٹک میزائلوں کو ایران اور یمن سے اسرائیل پر داغے جانے کے دوران تباہ کردیا گیا۔

امریکہ، اسرائیل اور ایران
امریکہ، اسرائیل اور ایران

اس سلسلے میں دو امریکی حکام نے پیر کے روز اے بی سی نیوز کو بتایا کہ ایران نے اسرائیل پر جو بیلسٹک میزائل فائر کیے ان میں سے کم از کم نصف یا تو لانچ نہیں ہوئے یا اپنی پرواز کے بعد یا اسرائیل میں اپنے اہداف تک پہنچنے سے پہلے گرے۔

ایک سینیر امریکی اہلکار نے نیوز نیٹ ورک کو بتایا کہ ایران کی جانب سے 300 سے زیادہ ڈرون، کروز میزائل اور بیلسٹک میزائل داغے گئے اور 115 سے 135 بیلسٹک میزائلوں نے اسرائیل کو نشانہ بنایا۔

صرف آدھے میزائل ہی مار گرائے گئے

اس کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل اور دیگر ممالک کو ایران نے کل رات داغے گئے بیلسٹک میزائلوں میں سے صرف نصف کو مار گرایا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ اس نے 80 سے زائد ڈرونز اور 6 بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کر دیا ہے جنہیں ایران اور یمن سے اسرائیل پر داغا گیا تھا۔

انہوں نے "ایکس" پلیٹ فارم پر شائع ہونے والے ایک بیان میں مزید کہا کہ ان کی افواج نے یمن میں حوثی کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایک بیلسٹک میزائل اور 7 ڈرونز کو لانچ کرنے سے پہلے تباہ کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ "ہماری افواج ایران کی طرف سے کیے جانے والے خطرناک اقدامات کے مقابلے میں اسرائیل کے دفاع کے لیے تیار ہیں"۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ "ایران کے اپنےغیر مسبوق ، بدنیتی پر مبنی اور لاپرواہ رویے کے تسلسل سے علاقائی استحکام اور امریکی اور اتحادی افواج کی حفاظت کو خطرے میں ڈال رہا ہے"۔

سینٹرل کمانڈ نےزور دے کر کہا کہ وہ خطے کی سکیورٹی کو بڑھانے کے لیے علاقائی شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں