جوبائیڈن پھرلڑکھڑاگئے،32سال قبل ختم ہونے والے ملک کی ’جنگ میں یوکرین کی مدد‘ کی تعریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

امریکی صدر جو بائیڈن نے اپنی غلطیوں کے لامتناہی سلسلے میں ایک نئی غلطی کرکے ایک نیا پنڈرا بکس کھول دیا۔ انہوں نے "روس کے خلاف یوکرین کی حمایت" کے لیے "چیکوسلواکیہ" کی تعریف کی جو 1992 کے آخرمیں جمہوریہ چیک اور سلوواکیہ میں تقسیم ہوگیا تھا۔

مہمان کےملک کا غلط نام لینا

81 سالہ بائیڈن نے وائٹ ہاؤس میں جمہوریہ چیک کے وزیر اعظم پیٹر فیالا سے سوموار کو ملاقات کے دوران پہلے غلط نام لیا پھر اس کو درست کرتے ہوئے"چیک ریپبلک" کہا۔

بائیڈن نے کہا کہ "میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا کہ یوکرین کے لوگوں کے لیے کھڑے ہونے میں ہم آپ کی صاف گوئی اور چیکو سلوواکیہ [چیک جمہوریہ] کے لوگوں کی حمایت کی کتنی تعریف کرتے ہیں"۔

زبان کی پھسلن یا یاداشت کی کمزور

بائیڈن کی غلطیاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب رائے عامہ کے جائزوں میں امریکی صدر کی ذہنی صحت کے بارے میں بڑے پیمانے پر تشویش ظاہر کی جا رہی ہے۔

وہ اس سال نومبر میں ہونے والے الیکشن میں ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست دینا چاہتے ہیں جب کہ دونوں بزرگ لیڈروں عمریں اب آٹھ دہائیوں میں ہیں۔

قابل ذکر ہے کہ بائیڈن اب تک کے سب سے معمر امریکی صدر ہیں اور اگر وہ 2029 میں اپنی دوسری مکمل مدت پوری کرتے ہیں تو ان کی عمر 86 برس ہو جائے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں