ایران اسرائیلی جوابی کارروائی کے لیے تیار،شام سے اپنے افسران کی منتقلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی جانب سے گذشتہ اتوار کی رات ایران کے حملے کے بعد جوابی کارروائی کی دھمکیوں پر تہران نے جوابی اقدامات شروع کردیے ہیں۔

ایران نے اس متوقع جوابی حملے کے لیے زمینی، سمندری اور فضا میں تیاری شروع کر دی ہے جس سے ملک کے اندر موجود مقامات، یا ایجنٹوں اورعراق، شام اور لبنان میں ملیشیاؤں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔

شامی اور ایرانی حکام اور مشیروں نے بدھ کے روز انکشاف کیا کہ تہران نے شام کے کئی مقامات سے اپنے افسران اور مشیروں کو نکالنا شروع کر دیا ہے، جہاں پاسداران انقلاب بڑی تعداد میں موجود ہے۔

شامی سکیورٹی حکام نے وضاحت کی ہے کہ پاسداران انقلاب اور حزب اللہ نے شام کے اندر اپنے سینیر افسران کی موجودگی کو کم کر دیا ہے۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق درمیانے درجے کے افسران کو ملک میں ان کے اصل عہدوں سے دوسروں کو منتقل کر دیا گیا۔

اس کے علاوہ پاسداران انقلاب نے پہلے ہی شام بھر میں اپنی تنصیبات کی حفاظت کے لیے ہنگامی اقدامات نافذ کر رکھے ہیں۔ اس کے کچھ ارکان نے خاص طور پر رات کے وقت اپنے اڈے خالی کر لیے ہیں۔

ان مراکزمیں ہتھیاروں کے ذخیرے کے دفاع کے لیے صرف چند عناصر باقی رہ گئے۔

محدود حملہ

اسرائیل شام کی سرزمین پر اہم ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنانے تک خود کو محدود کر سکتا ہے۔

عسکری ماہرین شام میں ایران سے منسلک تنصیبات کو ایک ایسے آپشن کے طور پر دیکھتے ہیں جو تل ابیب کو جواب کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

ایرانی بحریہ نے بدھ کو کہا تھا کہ اس کی افواج موجودہ کشیدگی کی روشنی میں بحیرہ احمر میں ایرانی تجارتی بحری جہازوں کے ساتھ جائیں گی۔

زمینی افواج نے بھی ایران میں اپنی تیاری کو بڑھا دیا ہے اور کہا ہے کہ ایران کسی بھی حملے کا فیصلہ کن اور فوری جواب دے گا۔

یہ اطلاع ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب یہ معلوم ہوا ہے کہ اسرائیل نے اس کی نوعیت کو جواب دینے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے لیکن اس کے وقت کے بارے میں بحث ابھی جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں