مشرق وسطیٰ

غزہ میں جنگ بندی کے مذاکرات معطل نہیں ہوئے بلکہ جاری ہیں: مصر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

مصری وزیر خارجہ سامح شکری نے کہا ہے کہ غزہ میں قیدیوں اور جنگ بندی کے معاہدے پر پہنچنے کے لیے بات چیت ابھی جاری ہے۔

انہوں نے امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک’سی این این‘ کو بتایا کہ "مذاکرات جاری ہیں اور ان میں خلل نہیں پڑا۔ مسلسل حالات کو سامنے رکھا جا رہا ہے اور ہم ایسا کرتے رہیں گے جب تک کہ مقصد حاصل نہیں ہو جاتا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے اسرائیلی اور ایرانی وزرائے خارجہ سے بات کی تاکہ خطے میں ماحول میں سکون اور امن برقرار رکھنے" کی اہمیت سے آگاہ کیا جا سکے۔

شکری نے ’سی این این‘ کے نامہ نگار بیکی اینڈرسن کو بتایا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان باہمی ہدف کو نشانہ بنانا خطے میں طویل المدتی مسائل اور تنازعات سے نمٹنے کے لیے کسی بھی طرح سے سازگار نہیں ہے"۔

وسیع جنگ

سامح شکری نے مزید کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی ہمیں انتقام کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے میں دھکیل دے گا جو صرف ایک بڑے پیمانے پر تصادم کا باعث بنے گا، جس کے دونوں ممالک کے لوگوں کے لیے بہت سنگین نتائج ہوں گے"۔

مصری وزیر خارجہ نے دو ریاستی حل کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی ریاست کا قیام سب کے "اعلیٰ ترین مفاد" میں ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ "ہمیں کسی دوسرے متبادل کے بارے میں قیاس آرائی نہیں کرنی چاہیے، لیکن ہم کسی بھی صورت حال سے مناسب طریقے سے نمٹیں گے‘‘۔

شکری نے مزید کہا کہ رفح میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں ہونے والی کسی بھی بڑے پیمانے پر نقل مکانی جنگی جرم کے مترادف ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ "بے گھر ہونا اور کوئی بھی سرگرمی جو نقل مکانی میں مدد اور حوصلہ افزائی کرتی ہے ایک جنگی جرم ہے اور اسے ایسا ہی سمجھا جانا چاہیے"۔

مصری وزیر خارجہ کا جنگ بندی مذاکرات کےحوالے سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل نے ایک سینیر اسرائیلی اہلکار کے حوالے سے منگل کو بتایا تھا کہ حماس نے قیدیوں کی رہائی کے لیے تازہ ترین مجوزہ معاہدے کی تمام شرائط کو مسترد کر دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں