اسرائیل کا زیر حراست انروا ملازمین پر تشدد پریشان کن ہے: امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ خارجہ کے نائب ترجمان ویدانت پٹیل نے تصدیق کی ہے کہ واشنگٹن کو اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزینوں (یو این آر ڈبلیو اے) کی رپورٹ میں شامل ان الزامات پر گہری تشویش ہے کہ اس کے ملازمین اور دیگر کو اسرائیلی فورسز نے غزہ سے حراست میں لیا اور اس دوران ان کو ناروا سلوک کا نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا واشنگٹن اسرائیل پر دباؤ ڈالے گا کہ وہ یو این آر ڈبلیو اے کے ملازمین سے متعلق الزامات کی مکمل تحقیقات کرائے۔ ان الزامات میں کہا گیا ہے کہ ملازمین کو شدید تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور انہیں برہنہ ہونے پر مجبور کیا گیا۔ یاد رہے اقوام متحدہ کے ادارے نے اطلاع دی ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فورسز کی طرف سے حراست میں لیے گئے اس کے کچھ ملازمین اور دیگر افراد کے ساتھ ناروا سلوک کیا گیا اور انہیں شدید مار پیٹ کا نشانہ بنایا گیا اور جبری برہنہ کیا گیا۔

منگل کو انروا کی رپورٹ میں کہا گیا کہ سرکاری کام کی انجام دہی کے دوران ان ملازمین کو ساری دنیا سے رابطے منقطع کرنے پر مجبور کیا گیا، انہیں حراست میں لے کر دیگر قیدیوں کی طرح بدسلوکی کی مختلف شکلوں سے گزارا گیا۔

ملازمین کو مار پیٹا گیا، واٹر بورڈ جیسی سزا دی گئی، عصمت دری اور بجلی کا جھٹکا لگانے کی دھمکیاں دی گئیں۔ اس کے ساتھ کپڑے اتارنے پرمجبور کیا گیا۔ انروا نے اسرائیلی حکام سے باضابطہ احتجاج بھی کیا ہے۔ اسرائیلی حکام نے اب تک اس حوالے سے واضح جواب نہیں دیا۔ اسرائیلی فوج نے کہا کہ وہ اسرائیلی اور بین الاقوامی قانون کے مطابق کام کرتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں