بھارت کے قومی انتخابات کے پہلے مرحلے میں ووٹنگ کا عمل جاری

لوک سبھا کے انتخابات میں 272 نشستیں جیتنے والی سیاسی جماعت نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارت میں عام انتخابات کے پہلے مرحلے میں ایوان زیریں [لوک سبھا] کی مجموعی طورپر 543 نشستوں میں سے 102 کے لیے آج جمعے کو ووٹ ڈالے جا رہے ہیں۔ اس موقع پر سکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔

اس مرتبہ یہ پارلیمانی انتخابات سات مرحلوں میں منعقد ہوں گے۔ اس الیکشن کو تاریخ میں اب تک کی سب سے بڑی جمہوری مشق کہا جا رہا ہے۔

چھ ہفتوں تک جاری رہنے والے اس جمہوری عمل میں 96 کروڑ 90 لاکھ رجسٹرڈ ووٹر اپنا حق رائے دہی استعمال کریں گے۔ ان میں سے 49.7 کروڑ ووٹر مرد اور 47.1 کروڑ خواتین شامل ہیں۔

لوک سبھا کے انتخابات میں 272 نشستیں جیتنے والی سیاسی جماعت نئی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جائے گی۔

ووٹنگ کا آخری مرحلے یکم جون کو ہو گا اور انتخابی نتائج کا اعلان چار جون کو کیا جائے گا۔

ووٹنگ کے لیے 55 لاکھ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کا استعمال کیا جائے گا۔

ناقدین نے ان مشینوں کے قابل اعتبار ہونے سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ الیکشن کے لیے ملک بھر میں دس لاکھ سے زائد پولنگ اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں۔

بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی مسلسل تیسری بار وزارتِ عظمیٰ کے منصب کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو مسلسل تیسری بار منتخب ہونے والے ملک کے دوسرے وزیرِ اعظم ہوں گے۔

جواہر لعل نہرو ملک کے واحد وزیرِ اعظم تھے جو مسلسل تین بار اس منصب تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے تھے۔

نریندر مودی نے اپنی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور حلیف جماعتوں کے اتحاد نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کے لیے 400 سے زائد سیٹوں پر کامیابی کا ہدف مقرر کیا ہے۔

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اتحاد انڈین نیشنل ڈویلپمنٹل انکلوسیو الائنس (انڈیا) میں شامل جماعتیں اپنی کھوئی ہوئی سیاسی زمین کی تلاش اور بی جے پی کو اقتدار سے باہر کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی کو سب سے زیادہ ملک کی اکثریت ہندوؤں کی حاصل ہے۔

بھارت کی ایک ارب 42 کروڑ آبادی میں 80 فی صد ہندو ہیں۔

نریندر مودی نے اس بڑی آبادی کی حمایت کے حصول کے لیے رواں برس کے آغاز میں متنازع مقام پر رام مندر کی تکمیل کی تقریبات میں شرکت بھی کی تھی۔

تین دہائیوں قبل 1992 میں ہندوؤں کے ہاتھوں منہدم کی جانے والی بابری مسجد کے مقام پر رام مندر کی تعمیر بی جے پی کے اہم ترین انتخابی دعوؤں میں شامل تھا۔

نریندر مودی کا مقابلہ کرنے کے لیے حزبِ اختلاف کی دو درجن جماعتوں نے ’انڈیا‘ کے نام سے سیاسی اتحاد تشکیل دیا ہے۔

سیاسی اتحادی ’انڈیا‘ کا کہنا ہے کہ اس کی کامیابی اس لیے ضروری ہے تاکہ ملک کی جمہوری روایات اور سیکولر اقدار کی حفاظت کی جا سکے جب کہ پسماندہ اقلیتوں کی ترقی بھی اس کے منشور کا حصہ ہے۔

بھارت میں اس وقت تک ہونے والے قبل از الیکشن سروے ایک بار پھر بی جے پی کی کامیابی کی نشان دہی کر رہے ہیں۔ تاہم الیکشن کے نتائج آنے سے قبل یہ سروے صرف سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں