پچاس ممالک کی اسرائیل پر ایرانی حملے کی مذمت، کشیدگی میں کمی کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

دنیا بھر کے کم سے کم 50 ملکوں نے بدھ کی رات ایک بیان جاری کیا جس میں اسرائیل پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کی مذمت اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی دور کرنے کی کوششوں پر سفارتی تعاون کا عہد کرتے ہوئے خطے کے فریقوں سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ صورت حال کو مزید خراب ہونے سے روکنے کے لیے کام کریں۔

یہ بیان، اسرائیل، امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا، فرانس، جرمنی، جاپان، یونان، اٹلی، اسپین، سویڈن، ہنگری، پولینڈ، نیدر لینڈ، نیوزی لینڈ، جنوبی کوریا، یوکرین، آسٹریا، بیلجیم، ارجنٹائن اور قبرص، سمیت پچاس ملکوں کے اقوام متحدہ میں مستقل نمائندوں کی جانب سے آیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ “ہم نوٹ کرتے ہیں کہ ایران کا اشتعال انگیز حملہ ایران اور اس کے عسکریت پسند شراکت داروں کے خطرناک اور غیر مستحکم کرنے والے اقدامات کا ایک تازہ ترین نمونہ ہے، جس سے بین الاقوامی امن اور سلامتی کو سنگین خطرہ لاحق ہوتا ہے۔”

اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے بدھ کو کہا کہ، اسرائیل اپنے طور پر فیصلہ کرے گا کہ ایران کے اختتام ہفتہ کیے گئے حملے کا جواب کیسے دیا جائے، اس کے باوجود کہ مغربی ممالک نے پورے مشرق وسطیٰ میں کسی جنگ کے پھیلاؤ سے بچنے کے لیے تحمل سے کام لینے کا کہاہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں