امریکی یونیورسٹی :طالبہ تبسم کی تقریر پر پابندی کے بعد دیگرمقررین کونہ بلانے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا نے اعلان کیا ہے کہ اس سال کی مرکزی افتتاحی تقریب میں اعزازی مقررین نہیں ہوں گے۔ یونیورسٹی کی طرف سے یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایک مسلمان طالبہ کو تقریر کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ طالبہ کا کہنا ہے کہ فلسطین کے حق میں بات کرنے سے منع کرنے کے لیے تقریر کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔

یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے فیصلہ کیا ہے کہ مقررین کو یونیورسٹی کے باہر سے نہیں بلایا جائے گا۔ نیز اعزازی تقاریر کرنے کا موقع بھی اس سال فراہم نہیں کیا جائے گا۔

یونیورسٹی کی پرووسٹ اینڈریو گزمین نے پیر کے روز کہا ہے کہ 'بائیو میڈیکل کی طالبہ تبسم کی تقریر تقریب کا حصہ نہیں ہوگی۔ انتظامیہ کا حالیہ فیصلہ کیمپس کی سیکیورٹی کے تناظر میں کیا گیا ہے۔'

تبسم نے کہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ خوفزدہ ہے اور نفرت کا بدلہ لے رہی ہے۔ ایسے فیصلوں کی ہدایات مسلم دشمنوں اور فلسطین دشمنوں کی طرف سے ملتی ہیں۔ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ سے کیمپس میں تناؤ کا ماحول ہے۔

جمعرات کے روز کولمبیا یونیورسٹی میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ 100 مظاہرین کی گرفتاری اس وقت عمل میں آئی جب یونیورسٹی صدر نے نیو یارک پولیس کو فلسطینیوں کے حق میں مظاہرہ کرنے والوں کے کیمپ کو خالی کرنے کا اختیار دیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی طلباء کے یہ مظاہرے جمعہ کے روز بھی جاری تھے۔

کونسل آف امریکن اسلامک ریلیشنز ایڈو وکیسی گروپ اور جیوش وائس فار پیس نے یونیورسٹی طالبہ تبسم کی حمایت کی ہے۔ علاوہ ازیں یونیورسٹی طلباء نے بھی تبسم کی حمایت میں مارچ کیا ہے۔

غزہ کی وزارت صحت کا کہنا ہے اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک 34 ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں