براہ راست کے بعد اسرائیل اور ایران کے حملے کسی تیسرے ملک منتقل ہوسکتے: امریکی مبصر

غیر اعلانیہ جنگ دونوں کو عراق یا شام جیسے تیسرے ملک میں دوبارہ تصادم کی طرف دھکیل سکتی: ایرون سٹین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یکم اپریل کو دمشق میں ایرانی قونصل خانہ پر اسرائیلی حملہ کے بعد 13 اپریل کو ایران نے ڈرونز اور میزائلوں سے اسرائیل پر حملہ کیا۔ 19 نومبر کو اسرائیل نے ایران پر محدود میزائل حملہ کیا۔ ان حملوں کا سلسلہ کیا آگے بڑھے گا اور یہ سلسلہ کیسے ختم ہوگا؟ کیا اسرائیل اور ایران کے درمیان یہ محاذ آرائی رک جائے گی؟ ان سوالات پر ایک تزویراتی امریکی ماہر نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کی۔

ایک امریکی محقق نے اشارہ کیا کہ اسرائیل اور ایران ایک سایہ دار جنگ کی طرف لوٹ جائیں گے۔ شام، لبنان، عراق اور خطے کے دیگر ملکوں میں تل ابیب اور تہران کے درمیان بالواسطہ تصادم کا حوالہ دیتے ہوئے امریکی فارن پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کے سربراہ محقق ایرون سٹین نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ ایرانی حکام اب تک کچھ گھنٹے قبل ہونے والے اسرائیلی حملوں کو کم سمجھ رہے ہیں۔ دونوں ملکوں کےدرمیان براہ راست حملوں کا سلسلہ رک جانے کا امکان ہے۔

تاہم ایرون سٹین نے مزید کہا کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان غیر اعلانیہ جنگ انہیں عراق یا شام جیسے تیسرے ملک کی سرزمین پر دوبارہ تصادم کی طرف دھکیل سکتی ہے۔ امریکی ماہر نے یہ بھی تجویز کیا کہ اسرائیل اور ایرانی فریقوں کے درمیان خطرات برقرار رہیں گے۔ انہوں نے کہا یہ یقینی ہے کہ خطرات جاری رہیں گے۔ یہ دونوں ممالک انتہائی مخالف ہیں۔ دونوں بالواسطہ اور براہ راست طریقوں سے ایک دوسرے سے لڑنے کے لیے تیار ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں